پہناووں پر سوال: پریشے کی حمایت میں ہانیہ اور سجل ، نادیہ خان کے دفاع میں بشریٰ انصاری

پاکستان کی نوجوان فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان نے حال ہی میں نیویارک فیشن ویک میں اپنے برانڈ ‘سیکنڈ اسکن’ کے ساتھ فلائنگ سولو شو کو کلوز کر کے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا، وطن واپسی پر ایک ٹی وی شو میں متنازعہ سوالوں کی زد میں آ گئیں۔

نادیہ خان نے اپنے مارننگ شو ‘رائز اینڈ شائن’ میں پریشے کو مدعو تو ان کی عالمی کامیابی پر کیا تھا، لیکن انٹرویو کے دوران گفتگو فیشن سے ہٹ کر پریشے کے جم میں پہنے جانے والے لباس اور والدین کی اجازت تک جا پہنچی۔

میزبان نے سوال کیا کہ جم میں ایسی ویڈیوز اور کپڑوں پر تنقید نہیں ہوتی؟ ممی ڈیڈی کو ٹینشن نہیں ہوتی؟پریشے نے نہایت تحمل سے جواب دیا کہ سیفٹی کے علاوہ انہیں فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ان کی ویڈیوز دیکھ کر سیکڑوں لڑکیاں فٹنس جرنی شروع کرتی ہیں۔

اس کلپ کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر نادیہ خان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ہانیہ عامر، سجل علی سمیت کئی فنکار پریشے کی حمایت میں سامنے آ گئے۔

تاہم اس سارے معاملے میں سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے مختلف مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی بہت ٹیلنٹڈ ہے، فوکس اس کی اچیومنٹ پر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن نادیہ میری بیٹی جیسی ہے، باتوں کے دوران کبھی کبھی ایسی بات نکل جاتی ہے، ٹرولنگ کی بھی حد ہونی چاہیے۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ پریشے کا اسٹائل اس کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اپنے کام میں یونیک ہے۔