لاہور:وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی مشکلات کم نہ ہو سکیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے رضوان کو 2 اکتوبر کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔
کرک انفو کے مطابق ایجنسی نے رضوان کو لندن میں گزشتہ ماہ قبضے میں لیے گئے موبائل فون کے حوالے سے تفتیش میں تعاون کے لیے خط لکھا ہے۔
رضوان کے خلاف تحقیقات کا تعلق الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ممکنہ خلاف ورزی سے ہے، تاہم تاحال ان پر عائد مخصوص الزامات واضح نہیں کیے گئے۔
رضوان نے خط کے ذریعے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان پر اگر کوئی چارج ہے تو بتایا جائے۔
کرک انفو کو معلوم ہوا ہے کہ رضوان 2 اکتوبر کو پیش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اس سے قبل وہ دوبارہ ایجنسی کو خط لکھ کر چارجز واضح کرنے پر زور دیں گے۔
یہ پیش رفت لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے رضوان کی درخواست مسترد کیے جانے کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے۔
ہائی کورٹ نے رضوان کو ایجنسی سے تعاون کی ہدایت کی تھی لیکن ساتھ ہی ایجنسی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا اور موبائل فون کی واپسی کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دی تھی۔
رضوان نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ این سی سی آئی اے نے عدالت کے حکم پر مکمل عمل نہیں کیا۔ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فون 31 اگست کو قبضے میں لینے کے تین گھنٹے بعد واپس کر دیا جائے گا، لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود فون واپس نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ تحقیقات انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد شروع ہوئی تھیں، جس کے بعد رضوان اور امام الحق کو فوری وطن واپس بلا لیا گیا تھا۔
امام الحق نے ایجنسی کا سوالنامہ پُر کر دیا ہے جبکہ رضوان قانونی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔


