سکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے دو اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کی صبح کنٹر اور ہلمند کے سرحدی علاقوں میں کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وہی مراکز تھے جہاں سے پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ان ٹھکانوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ خوارج موجود تھے جو گزشتہ کئی ماہ سے پاکستانی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کارروائی انتہائی مہارت سے کی گئی اور صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت کو ثبوتوں کے ساتھ آگاہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تاہم کابل کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
گزشتہ دس روز کے دوران صورتحال مزید کشیدہ ہوئی ہے۔ پاکستان نے 21 ستمبر اور 24 ستمبر کو بھی افغان صوبوں میں دہشت گردوں کے خودکش بمباروں کے مراکز پر کامیاب فضائی کارروائیاں کی تھیں۔
اس سے قبل 23 ستمبر کو افغانستان کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش بھی کی گئی تھی، جب سکیورٹی فورسز نے 8 افغان ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔


