ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی ڈیزل بحران کے معاملے پر امریکا اور یورپی یونین کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں یورپی یونین نے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔
اے ایف پی کے طابق یورپی کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا اِٹکونن نے کہا کہ یورپی یونین ڈیزل پر کسی بھی پابندی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی پابندی کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی اور امریکا کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھنے کے حوالے سے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے یورپی ممالک پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اسٹریٹجک ایندھن کے ذخائر کا مزید حصہ مارکیٹ میں لائیں تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے موجودہ وعدوں پر تیزی سے عمل کریں اور عالمی ڈیزل سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے اضافی ذخائر فوری طور پر دستیاب کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور کاروباری اداروں کو عالمی ڈیزل کی قلت کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
یورپی یونین نے امریکی مطالبے کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے بجائے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (ای آئی اے) کے ساتھ مل کر ممکنہ طور پر اپنے ایندھن کے ذخائر جاری کرنے پر کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یورپی کمیشن اور رکن ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے لیے مشاورت بھی ہوئی ہے تاکہ 27 ممالک کے بلاک کی جانب سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔
ای آئی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ مارچ میں عالمی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے طے کیے گئے ذخائر میں سے ایک حصہ ابھی تک مارکیٹ میں نہیں آیا۔
ای آئی اے کے 32 رکن ممالک نے مارچ میں اپنے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ ادارے کی تاریخ میں ذخائر جاری کرنے کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیا گیا۔
بیرول کے مطابق اس مقدار کا تقریباً ایک تہائی حصہ ابھی مارکیٹ تک نہیں پہنچا، جبکہ ای آئی اے کے مجموعی ذخائر کا تقریباً 80 فیصد اب بھی دستیاب ہے۔ اس صورتحال میں مزید ذخائر جاری کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی اور ڈیزل بحران سے نمٹنے کے لیے جی7 ممالک کے درمیان مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
میکرون کے دفتر کے مطابق فرانسیسی صدر نے برآمدی پابندیوں کے بجائے جی7 ممالک کے درمیان مربوط حکمت عملی کی حمایت کی۔
فرانس نے ڈیزل بحران پر جی7 رہنماؤں کا ویڈیو اجلاس جلد بلانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔
یورپ کے لیے ڈیزل پابندی کیوں اہم ہے؟
یورپی یونین پہلے ہی توانائی کے شعبے میں عالمی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ یورپی تجارتی امور کے سربراہ ماروش شیفچووچ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی کے یورپی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے خاص طور پر فرانس اور جرمنی پر زور دی حکام کا کہنا ہے کہ یورپ کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی سپے جانے کی اطلاعات ہیں کہ وہ اپنے ڈیزل ذخائر استعمال کرکے مارکیٹ میں سپلائی بڑھائیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یورپ کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بڑھانے اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے مختلف راستوں پر کام کیا جائے۔
امریکا میں ڈیزل کی قیمت 70 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی
ایران جنگ اور توانائی کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے امریکا اور یورپ دونوں میں ڈیزل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ روس کے کے لیے بنیادی ایندھن ہے، اس لیے قیمتوں میں مسلسل اضافہ نقل و حمل اور اشیائے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرین کے حملوں کو بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا میں اوسط ڈیزل قیمت 70 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 6.39 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔
ڈیزل ٹرکوں، مال بردار گاڑیوں اور مختلف صنعتی سرگرمیوں کے لیے بنیادی ایندھن ہے، اس لیے قیمتوں میں مسلسل اضافہ نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی لاگت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گئی ہیں، کیونکہ ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتیں براہِ راست صارفین اور کاروبار کے اخراجات سے جڑی ہوئی ہیں۔


