پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے سات سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی اس امید کے ساتھ کی تھی کہ ڈومیسٹک کرکٹ انہیں اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس حاصل کرنے میں مدد دے گی، لیکن صدر ٹرافی میں اب تک کی چار اننگز نے الٹا ان کی بیٹنگ پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے بطور مہمان کھلاڑی کھیلنے والے بابر اعظم چار اننگز میں مجموعی طور پر صرف 58 رنز بنا سکے ہیں۔
ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں بابر اعظم کی واپسی دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شائقین پہنچے۔ عام طور پر فرسٹ کلاس میچز کے دوران خالی رہنے والا اسٹیڈیم بابر کی موجودگی کے باعث مداحوں سے بھر گیا۔
ٹاس میں کے آر ایل کے کپتان افتخار احمد نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جس کے باعث شائقین کو بابر کو بیٹنگ کرتے دیکھنے کے لیے تیسرے دن تک انتظار کرنا پڑا۔
جب بابر میدان میں اترے تو اسٹیڈیم ’بابر، بابر‘ کے نعروں سے گونج اٹھا، لیکن ان کی اننگز صرف 20 گیندوں تک محدود رہی۔
شارٹ بال پھر بابر کی مشکل
ارشد اقبال کی گیند پر بابر نے پل شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، مگر گیند شارٹ مڈ وکٹ پر کیچ ہوگئی۔ وہ صرف 20 گیندوں پر چند رنز بنا کر واپس لوٹ گئے۔
یہ آؤٹ اس لیے بھی زیر بحث آیا کیونکہ انگلینڈ کے حالیہ دورے میں بھی جوفرا آرچر اور جوش ٹنگ نے شارٹ بالز کے ذریعے بابر کو مشکلات میں ڈالا تھا۔
ایبٹ آباد میں ایک ڈومیسٹک بولر کے خلاف اسی انداز میں آؤٹ ہونے سے یہ سوال مزید نمایاں ہوگیا کہ مسئلہ صرف بیرون ملک تیز رفتار بولرز کا نہیں۔
کے آر ایل کے خلاف دوسری اننگز میں بابر صرف 15 گیندوں پر 4 رنز بنا سکے اور فہیم اشرف کی سیدھی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اس کے بعد ایس بی پی کے خلاف میچ میں بھی بابر کی مشکلات جاری رہیں۔ تیز گیند باز آفاق احمد نے انہیں ایل بی ڈبلیو کردیا، جبکہ دوسری اننگز میں وہ 21 رنز بنانے کے بعد سلپ میں کیچ ہوگئے۔
پریزیڈینٹ ٹرافی میں جہاں کئی بلے باز بڑی اننگز کھیل رہے ہیں، وہیں بابر اعظم کے اعداد و شمار نمایاں طور پر کم ہیں۔
ٹورنامنٹ میں اب تک 22 سنچریاں بن چکی ہیں، جبکہ سلمان علی آغا اور عبداللہ فضل نے ٹرپل سنچریاں بھی اسکور کی ہیں۔ محمد طحہٰ اور حسن رضا ڈبل سنچریاں بنا چکے ہیں۔
اس کے مقابلے میں بابر اعظم چار اننگز میں 58 رنز کے ساتھ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں 70ویں نمبر پر ہیں۔
بابر نے پریزیڈنٹ ٹرافی شروع ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ سے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ او جی ڈی سی ایل نے انہیں بطور مہمان کھلاڑی ٹیم میں شامل کیا۔
مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے آئندہ انٹرنیشنل سیزن سے قبل بابر کو زیادہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے، لیکن موجودہ کارکردگی نے فارم کی بحالی کے بجائے ان کی بیٹنگ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مداحوں کا جوش، گراؤنڈ انتظامات پر سوال
بابر کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوا کہ ایبٹ آباد اور اسلام آباد کے گراؤنڈز میں شائقین بڑی تعداد میں انہیں دیکھنے پہنچے۔ اسلام آباد میں ایک موقع پر مداح سیلفی لینے کے لیے میدان میں بھی داخل ہوگیا۔
بعد ازاں اس واقعے کے بعد ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں شائقین کے داخلے پر پابندیاں سخت کی گئیں۔ یہ واقعات پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کے دوران سیکیورٹی اور تماشائیوں کے انتظامات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق بابر اعظم کو آئندہ سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے منتخب کیے جانے کی توقع ہے، جس کے باعث ممکن ہے کہ صدر ٹرافی میں ان کا سفر یہیں ختم ہوجائے۔
بابر نے دسمبر 2022 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری نہیں بنائی۔ اس عرصے میں ٹیسٹ فارمیٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی سے بابر سے فارم کی بحالی کی امیدیں وابستہ تھیں، مگر صدر ٹرافی کی چار اننگز نے فی الحال اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے ان کی بیٹنگ تکنیک اور موجودہ فارم پر بحث مزید بڑھا دی ہے۔


