دبئی: پاکستان چیمپئنز نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) کے تیسرے ایڈیشن سے باضابطہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان چیمپئنز انتظامیہ نے 5 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے این او سی جاری نہ کرنے کے فیصلے کے بعد ٹیم ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکے گی۔اصل وجہ کیا بنی۔ تاہم یہ معاملہ صرف این او سی کا نہیں، بلکہ گزشتہ سال کے تنازع کا تسلسل ہے۔
ڈبلیو سی ایل 2026 میں بھارتی چیمپئنز نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف گروپ میچ اور پھر سیمی فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس وقت پاکستان کو واک اوور دے کر فائنل میں پہنچایا گیا تھا، لیکن پی سی بی نے اسے کھیل پر سیاست کو حاوی کرنے اور جانبدارانہ رویہ قرار دیا تھا۔
اس بار پی سی بی نے ڈبلیو سی ایل انتظامیہ کے سامنے دو شرائط رکھی تھیں۔ پہلی شرط تھی کہ بھارتی کھلاڑی گزشتہ سال میچ نہ کھیلنے پر تحریری معافی مانگیں۔ جب کہ دوسری شرط آئندہ پاک بھارت میچ میں ہاتھ ملانے اور مکمل شرکت کی یقین دہانی کرائی جائے۔
ڈبلیو سی ایل انتظامیہ نے دوسری شرط تو تسلیم کر لی، لیکن معافی اور ہینڈ شیک کی شرط مسترد کر دی، جس کے بعد پی سی بی نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے این او سی روک لیے۔
ٹیم مالک کامل خان نے بورڈ سے نظرثانی کی اپیل بھی کی، لیکن بورڈ نے اگست 2025 میں لگایا گیا بلینکٹ بین برقرار رکھا۔
ٹورنامنٹ انتظامیہ نے مختصر بیان میں کہا کہ پاکستان چیمپئنز غیر متوقع حالات کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہے، ٹورنامنٹ 6 ٹیموں کے ساتھ جاری رہے گا۔ 6 اکتوبر کو شیڈول آسٹریلیا کے خلاف میچ اور 10 اکتوبر کو انڈیا پاکستان کا ہائی وولٹیج میچ دونوں منسوخ ہو گئے۔
پاکستان چیمپئنز پچھلے دونوں سیزن کی رنر اپ ٹیم ہے – 2024 میں فائنل انڈیا سے ہاری اور 2025 میں ساؤتھ افریقہ سے 9 وکٹوں سے شکست ہوئی۔ اس بار ٹیم میں شاہد آفریدی سمیت کئی بڑے لیجنڈز شامل تھے۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ لیجنڈز کرکٹ میں بھی اب وہی سیاسی سرد مہری آ گئی ہے جو اصل ٹیموں کے درمیان ہے، اور اس کا سب سے بڑا نقصان شائقین کو ہو رہا ہے جو ایک بار پھر آفریدی بمقابلہ یوراج جیسے مقابلے سے محروم رہ گئے۔


