میٹا نے انسٹاگرام صارفین کے لیے موس نامی نیا اے آئی ایجنٹ متعارف کرا دیا ہے، جو محض سوالات کے جواب دینے کے بجائے روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی، یاد دہانی اور بعض عملی مراحل میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
انسٹاگرام صارفین کو اب بعض جگہوں پر کسی پوسٹ یا ریل کے شیئر آپشن میں موس کا نیا انتخاب دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر عام شیئرنگ مینو میں شامل یہ آپشن دراصل میٹا کے نئے اے آئی ایجنٹ موس سے جڑا ہوا ہے، جسے کمپنی ایک پرسنل اے آئی ایجنٹ کے طور بندی کرنی ہو تو موس ٹکٹوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے، مناسب وقت پر یاد دہانی دینے اور ریزرویشن پر پیش کر رہی ہے۔
موس کیا ہے؟
موس کو روایتی چیٹ بوٹس سے ایک قدم آگے کا اے آئی ٹول قرار دیا جا رہا ہے۔ عام اے آئی چیٹ بوٹ جہاں سوال کا جواب یا معلومات فراہم کرتا ہے، وہیں موس کا مقصد صارف کے کسی کام کو سمجھنا، اس کی منصوبہ بندی کرنا اور اسے مکمل کرنے کے مراحل میں مدد دینا ہے۔
مثلاً اگر کسی صارف کو سفر کی منصوبہ بندی کرنی ہو تو موس ٹکٹوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے، مناسب وقت پر یاد دہانی دینے اور ریزرویشن کے عمل میں مدد کرنے جیسے کام کر سکتا ہے۔
صرف مشورہ نہیں، کام مکمل کرنے میں بھی کے ذریعے ای میل میں موصول ہونے والے کسی فارم کو مکمل کرنے اور اس کے بعد مدد
موس کی خاص بات اس کا ایجنٹک اے آئی انداز ہے۔ اس کے ذریعے ای میل میں موصول ہونے والے کسی فارم کو مکمل کرنے اور اس کے بعد کے مراحل میں مدد لینے کا آپشن بھی موجود ہے۔
اسی طرح صارف کسی کام کے لیے یاد دہانی بھی مقرر کر سکتا ہے تاکہ ضروری وقت آنے پر اسے یاد دلایا جا سکے۔
خرچ کم کرنے میں بھی مددگار
موس کو ذاتی مالی معاملات کو سمجھنے اور بچت کے مواقع تلاش کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً صارف اپنے اخراجات کا جائزہ لے کر یہ جان سکتا ہے کہ کون سی غیر ضروری سبسکرپشن ختم کی جا سکتی ہے یا کہاں اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حتمی منظوری صارف کے اختیار میں رہتی ہے اور وہ خود طے کر سکتا ہے کہ کون سا خرچ منظور کرنا ہے یا کیا بھیجنا ہے۔
موس میں صارف اپنے بڑے یا چھوٹے اہداف کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی سہولت بھی حاصل کر سکتا ہے۔یعنی صارف صرف یہ بتانے کے بجائے کہ اسے کیا حاصل کرنا ہے، موس سے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے کیا کرنا ہوگا اور کب کیا قدم اٹھانا چاہیے۔
جی میل، کیلنڈر اور دیگر سروسز سے کنکشن
موس کی ایک اہم خصوصیت مختلف ایپس اور سروسز کے ساتھ کنکشن ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس میں جی میل، گوگل کیلنڈر، صحت، فیس بک، انسٹاگرام، پیلیٹون اور فنانس جیسی سروسز کے مختلف کاموں اور معمولات سے متعلق معلومات کو ایک جگہ استعمال کرتے ہوئے زیادہ ذاتی کو جوڑنے کے آپشنز دکھائی دیتے ہیں۔
ان کنکشنز کے ذریعے اے آئی صارف کے مختلف کاموں اور معمولات سے متعلق معلومات کو ایک جگہ استعمال کرتے ہوئے زیادہ ذاتی نوعیت کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
انسٹاگرام کے شیئر بٹن میں کیوں نظر آ رہا ہے؟
انسٹاگرام پر موس کی موجودگی اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ صارفین اسے الگ سے تلاش کرنے کے بجائے پوسٹ یا ریل کے شیئر مینو میں دیکھ رہے ہیں۔ آپشن منتخب کرنے پر بعض صارفین کو موس فروم میٹا کی ایپ لسٹنگ کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
تاہم موس کی دستیابی ہر ملک اور ہر صارف کے لیے یکساں نہیں ہے۔ بعض مقامات پر اس کی ایپ لسٹنگ موجود ہونے کے باوجود یہ پیغام بھی دکھائی دے سکتا ہے کہ سروس فی الحال اس ملک میں دستیاب نہیں۔
اصل تبدیلی کیا ہے؟
موس کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ ایک اور اے آئی چیٹ بوٹ ہے، بلکہ اصل تبدیلی اے آئی کے سوال کا جواب دینے سے آگے بڑھ کر کام میں شریک ہونے کی کوشش ہے۔
یعنی مستقبل میں صارف کو یہ کہنے کے بجائے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟، اے آئی سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ میرے لیے اس کام کا پلان بنا دو، مناسب وقت پر یاد دلاؤ اور جہاں میری منظوری ضروری ہو وہاں مجھ سے پوچھ لینا۔
اگر موس اسی انداز میں بڑے پیمانے پر دستیاب ہوتا ہے تو یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود اے آئی کو محض تفریح یا معلوماتی ٹول کے بجائے روزمرہ زندگی کے ذاتی معاون میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔


