کینیڈین مصنفہ این کارسن ادب کی نوبیل انعام 2026 کی حقدار قرار

اسٹاک ہوم: کینیڈا کی معروف شاعرہ، مضمون نگار اور کلاسیکی ادب کی ماہر این کارسن کو 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سویڈش اکیڈمی نے جمعرات کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 76 سالہ کارسن کو یہ اعزاز ان کی جرأت مندانہ اور اختراعی ادبی تخلیقات کے اعتراف میں دیا گیا ہے، جن میں انہوں نے کلاسیکی روایت کے ساتھ تخلیقی مکالمے کے ذریعے عصرِ حاضر کے ادب کے لیے نئی اصناف اور اسالیب تشکیل دیے۔

این کارسن کی تقریباً تمام ادبی تخلیقات میں الفاظ کے ساتھ ایک ماہرِ لسانیات کی گہری وابستگی اور نئے معنی تلاش کرنے کی ایک شاعر کی خواہش نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی تحریروں میں محبت، خواہش، محرومی، مایوسی اور قدیم یونانی و کلاسیکی روایت جیسے موضوعات کو جدید اور منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اکیڈمی نے ان کی معروف تصنیف نوکس کو خصوصی طور پر سراہا۔ یہ ان کے مرحوم بھائی کی یاد میں تخلیق کیا گیا ایک غیر معمولی شعری و ادبی کام ہے، جسے ایک ہی مسلسل طویل صفحے پر شائع کیا گیا تھا۔ سویڈش اکیڈمی نے اسے ایک ناقابلِ فراموش تخلیق قرار دیا۔

سویڈش اکیڈمی کی مستقل سیکریٹری انگرڈ کارلبرگ نے بتایا کہ انہوں نے کارسن سے مختصر گفتگو کی۔ ان کے مطابق کارسن اس وقت آئس لینڈ میں موجود ہیں جہاں وہ ہوا کی آواز سن رہی تھیں۔

کارلبرگ نے کہا کہ کارسن کو نوبیل انعام ملنے کی خبر پر حیرت ہوئی، تاہم وہ بہت خوش تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ فون پر بھی ان کی آواز سے خوشی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔

این کارسن کا نام کئی برس سے ادب کے نوبیل انعام کے ممکنہ امیدواروں میں لیا جاتا رہا ہے۔ ادبی حلقوں میں ان کی شاعری، نثر اور کلاسیکی ادب کو جدید تجربات کے ساتھ جوڑنے کے منفرد انداز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

اس سال یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی تھیں کہ نوبیل انعام کسی خاتون ادیبہ کو دیا جا سکتا ہے، کیونکہ سویڈش اکیڈمی کو ماضی میں اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ نوبیل ادب انعام حاصل کرنے والوں میں مغربی سفید فام مردوں کی نمائندگی بہت زیادہ رہی ہے۔

ادب کا نوبیل انعام شروع ہونے کے بعد اب تک 122 انعام یافتگان میں صرف 19 خواتین شامل ہوئی ہیں۔

سال 2018 میں جنسی زیادتی کے ایک اسکینڈل کے بعد سویڈش اکیڈمی شدید بحران کا شکار ہوئی تھی۔ اس واقعے کے نتیجے میں اکیڈمی کے 18 ارکان میں سے نصف سے زیادہ کو تبدیل کیا گیا۔

اس کے بعد سے ادب کے نوبیل انعام کے انتخاب میں خواتین ادیباؤں کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں متعدد خواتین کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

سال 2025 میں ادب کا نوبیل انعام ہنگری کے معروف ادیب لازلو کراسناہوری کو دیا گیا تھا۔ ان کی تحریروں میں عموماً بعد از جدید دور کی بے یقینی، زوال اور ڈسٹوپیائی معاشرے جیسے موضوعات نمایاں ہوتے ہیں۔