لزبن : فٹبال کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کرسٹیانو رونالڈو کو ان کی اپنی قومی ٹیم نے معطل کر دیا ہے۔

پرتگال فٹبال فیڈریشن (ایف پی ایف) نے باضابطہ اعلان کیا کہ رونالڈو کے خلاف فوری نوعیت کی ڈسپلنری کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور جب تک فیصلہ نہیں آتا، وہ قومی ٹیم کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتگال کے نئے ہیڈ کوچ جارج جیسس نے رونالڈو سے وعدہ کیا تھا کہ ناروے کے خلاف نیشنز لیگ میچ میں انہیں موقع ملے گا۔ رونالڈو نے سائیڈ لائن پر پورا وارم اپ کیا، لیکن 90 منٹ بینچ پر ہی بیٹھے رہے۔ پرتگال نے وہ میچ 4-2 سے جیت لیا۔

اگلے میچ ڈنمارک کے خلاف جب انہیں بتایا گیا کہ وہ پھر پلئینگ الیون میں نہیں ہوں گے، تو رونالڈو غصے میں کیمپ چھوڑ کر سیدھے سعودی عرب واپس چلے گئے۔ فیڈریشن کے مطابق یہ قومی ٹیم کی سرگرمی کو ترک کرنا ہے جو سنگین خلاف ورزی ہے۔

سزا سے پہلے ہی رونالڈو نے انسٹاگرام پر تقریباً 2000 الفاظ کا بیان جاری کر دیا۔ جس میں ان کا کہنا تھاکہ وہ کیمپ چھوڑنے پت اپنے ساتھیوں سے معافی مانگتے ہیں۔ کوچ نے اپنا وعدہ توڑا، اس کے گواہ موجود ہیں، لیکن پھر بھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ذمہ داری صرف میری ہے۔ مجھے سزا ملنی چاہیے۔ میں ریٹائر نہیں ہو رہا، فٹ ہوں، گول کر رہا ہوں، سزا کے بعد میں پھر پرتگال کے لیے کھیلنے کو دستیاب ہوں گا۔

رونالڈو پرتگال کے آل ٹائم ٹاپ اسکورر اور سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں، اور ابھی اسی موسم گرما میں اپنا چھٹا ورلڈ کپ کھیل کر آئے ہیں۔

پرتگال کے ڈسپلنری رولز کے مطابق اس جرم پر 1 ماہ سے 6 ماہ تک پابندی لگ سکتی ہے۔ اگر پابندی ایک ماہ سے زیادہ رہی تو رونالڈو نومبر میں ڈنمارک اور ویلز کے خلاف کوارٹر فائنل کے اہم میچز سے باہر ہو جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ہنگامے کے بیچ کلب میں وہ رکنے والے نہیں — جمعہ کی رات النصر کے لیے دریاہ کے خلاف 3-0 کی جیت میں گول کر کے اپنے کیرئیر کا 980 واں گول مکمل کر لیا۔پرتگال نے ان کے بغیر ہی نیشنز لیگ کے چاروں میچ جیت کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، لیکن فیڈریشن کا یہ سخت فیصلہ واضح پیغام ہے — کوئی بھی ٹیم سے بڑا نہیں، چاہے وہ رونالڈو ہی کیوں نہ ہو۔