پارلیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کردی: اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی، تاہم حکومتی اقدام کو اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قراردادوں کی منظوری کے دوران نعرے بازی اور احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ قرارداد پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان چار گھنٹے سے زائد طویل بحث ہوئی، جس کے دوران اپوزیشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت مخالفت کی اور ایوان میں شدید نعرے بازی کی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال اور ملک میں جاری سیاسی حالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے قیام سے متعلق انتخابات پر سنگین سوالات موجود ہیں اور خیبر پختونخوا میں عوامی مینڈیٹ سے قائم حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا کا واحد قصور یہ ہے کہ وہاں عوام کی طاقت سے حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقت کے ذریعے عوام سے ان کا حقِ حکمرانی چھیننے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر نے اپنے خطاب میں ملک کے ماضی کے مارشل لاز اور سیاسی بحرانوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے بعض سخت الفاظ پر ایوان میں صورتحال کشیدہ ہوگئی، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے ’دہشت گرد حکومت‘ کے الفاظ کارروائی سے حذف کرا دیے۔

ادھر سینیٹ میں بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش کی گئی۔ سینیٹ میں قرارداد کے سامنے آتے ہی اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ کے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔ یوں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید سیاسی اختلاف کا مرکز بن گیا۔

پارلیمانی کارروائی کے دوران اپوزیشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کو عوامی مینڈیٹ اور صوبائی اختیار سے جوڑتے ہوئے اس کی مخالفت کی، جبکہ حکومتی ارکان کی جانب سے قرارداد کی منظوری کا عمل آگے بڑھایا گیا۔ دونوں ایوانوں سے توثیق کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ پارلیمانی سطح پر بھی منظور ہو گیا۔