امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں نیا اوپن ویٹ ماڈل موس اسپارک اوپن متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ماڈل کوڈنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور کئی مراحل پر مشتمل کاموں کو انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس ماڈل میں مجموعی طور پر 816 ارب پیرامیٹرز ہیں، جن میں سے ایک وقت میں 42 ارب فعال رہتے ہیں۔ اس کی کانٹیکسٹ ونڈو 10 لاکھ ٹوکنز پر مشتمل ہے، جس سے یہ بڑی مقدار میں معلومات کو ایک ساتھ پراسیس کرسکتا ہے۔
اس اعلان کی ایک اہم بات ایپل کے ساتھ میٹا کا اشتراک بھی ہے، جس کے تحت یہ ماڈل ایپل کے ایم 5 الٹرا چپ والے میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز پر مقامی طور پر چلایا جاسکے گا۔
میٹا کے مطابق موس اسپارک اوپن کو خاص طور پر ایسے کاموں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن میں اے آئی کو طویل وقت تک کام جاری رکھنا، سافٹ ویئر کے پیچیدہ مسائل حل کرنا اور مختلف مراحل میں فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
ماڈل کے اندر موجود مجموعی پیرامیٹرز اس کے سیکھے ہوئے پیٹرنز اور معلومات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں بڑی دستاویزات، کوڈ اور طویل گفتگو سے متعلق معلومات کو ایک ساتھ مدنظر رکھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ منصوبہ بندی، ٹولز کا استعمال اور نتائج کی جانچ جیسے کاموں کو کئی مراحل میں انجام دینے والے کام بھی کرسکتا ہے۔
میٹا نے اسے امریکا میں اب تک کا سب سے زیادہ صلاحیت والا اوپن ویٹ ماڈل قرار دیا ہے۔ موس اسپارک اوپن کو ایپل کے ایم5 الٹرا چپ والے دو میک اسٹوڈیو سسٹمز پر چلانے کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایپل کے مشین لرننگ فریم ورک ایم ایل ایکس کا استعمال کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ایم5 الٹرا کی یونیفائیڈ میموری آرکیٹیکچر کے ذریعے ہر میک اسٹوڈیو میں 512 جی بی تک میموری دستیاب ہوسکتی ہے۔ دو سسٹمز کو ملا کر ماڈل کے وزن کے لیے مجموعی طور پر ایک ٹیرا بائٹ تک یونیفائیڈ میموری استعمال کی جاسکتی ہے۔
سادہ الفاظ میں، دو طاقتور میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز مل کر اس بڑے اے آئی ماڈل کو چلانے کے لیے درکار میموری فراہم کرسکتے ہیں۔ اس سے ڈیولپرز کو بعض اے آئی ورک فلو اپنی مشینوں پر چلانے کا موقع مل سکتا ہے، جس سے ہر کام کے لیے کلاؤڈ سرورز پر انحصار ضروری نہیں رہے گا۔
مقامی طور پر ماڈل چلانے کے لیے مناسب ہارڈویئر، میموری، بجلی اور دیگر وسائل درکار ہوں گے۔ اس لیے یہ سہولت عام کمپیوٹرز پر لازماً اسی کارکردگی کے ساتھ دستیاب نہیں ہوگی۔
موس اسپارک اوپن متعدد انفرنس انجنز اور مشین لرننگ ٹولز کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ ان میں ایس جی لینگ ، وی ایل ایل ایم ، ٹینسر آر ٹی – ایل ایل ایم، ہگنگ فیس ، ایم ایل ایکس اور شامل ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ایپل کے علاوہ اے ایم ڈی، انٹیل اور اینویڈیا کے ہارڈویئر پر بھی چلانے کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔ ڈیولپرز پائی ٹارچ اور ٹارچ ٹائٹن کے ذریعے ماڈل کو اپنی ضروریات کے مطابق کسٹمائز بھی کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، میٹا نے ایس جی لینگ میں اپنے ہیلین جی پی یو کرنیلز متعارف کرائے ہیں، جنہیں خودکار طور پر بہتر کارکردگی کے لیے ٹیون کیا جاسکتا ہے۔
میٹا کے دعوے کے مطابق، ان کرنلز سے اینویڈیا اور اے ایم ڈی کے گرافکس پروسیسرز پر بعض سطحوں پر 3.95 گنا تک رفتار میں بہتری حاصل ہوسکتی ہے۔ کمپنی نے اے ایم ڈی ایم آئی 350 ہارڈویئر پر مجموعی کارکردگی میں 3 فیصد بہتری کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ نتائج مخصوص ٹیسٹ اور حالات سے متعلق ہیں، اس لیے ہر ورک لوڈ میں یکساں رفتار کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
ڈیولپرز اسے کہاں سے حاصل کرسکتے ہیں؟
میٹا نے موس اسپارک اوپن کو مختلف اے آئی پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے بیس ٹین، فائر ورکس اے آئی، گروک، ماڈل، نیبیئس، اوپن راؤٹر اور ٹوگیدر اے آئی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اے پی آئی تک رسائی فراہم کی جارہی ہے۔
ماڈل کے ویٹس ایمیزون ساگا میکر اے آئی، گوگل کلاڈ ماڈل گارڈن ، ہگنگ فیس اور مائیکرو سافٹ فاؤنڈری ماڈلز کے ذریعے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
کمپنی نے اسے موس موڈلز لائسنس کے تحت جاری کیا ہے۔ اس لائسنس کے مطابق، ڈیولپرز مخصوص تجارتی شرائط کے تحت اسے مفت استعمال کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اوپن ویٹ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر ہر قسم کے استعمال کے لیے کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ صارفین کو متعلقہ لائسنس کی شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔
موس اسپارک اوپن جیسے بڑے اوپن ویٹ ماڈلز ڈیولپرز کو اے آئی پر مبنی کوڈنگ ٹولز، خودکار سافٹ ویئر ایجنٹس اور پیچیدہ کاموں کے لیے اپنے حل تیار کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔
مقامی ہارڈویئر پر ماڈل چلانے کی صلاحیت ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول، بعض حالات میں کم تاخیر اور کلاؤڈ سروسز پر انحصار کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب، اتنے بڑے ماڈل کو چلانے کے لیے مہنگا اور طاقتور ہارڈویئر درکار ہوسکتا ہے، جو چھوٹے ڈیولپرز اور عام صارفین کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔
میٹا کا نیا ماڈل اوپن ویٹ اے آئی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ تاہم، اس کی حقیقی افادیت کا فیصلہ کوڈنگ کی درستگی، پیچیدہ کاموں میں کارکردگی، رفتار، اخراجات اور دوسرے دستیاب ماڈلز کے ساتھ عملی تقابل سے ہوگا۔


