ممبئی: بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور وزیراعظم نریندر مودی پر کی جانے والی تنقید کے معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت سے سوال کرنا اور احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اختلاف رائے کے اظہار کے لیے گالی گلوچ اور بدتمیزی کا سہارا لینا درست نہیں۔ انوپم کھیر نے مظاہرین سے ووٹ چوری کے الزامات کے حق میں قانونی ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انوپم کھیر نے انسٹاگرام پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم مودی اور ان کی والدہ کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کی جانے والی نازیبا زبان پر ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے عہدے کا احترام ہونا چاہیے اور کسی بھی سیاسی اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
انوپم کھیر کے مطابق، کسی حکومت یا ادارے کے فیصلوں سے اختلاف کرنا جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن اپنی بات منوانے کے لیے بدزبانی کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے احتجاج کے دوران خاتون پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، نامناسب رویے اور اشتعال انگیز حرکتوں پر بھی اعتراض کیا۔
اداکار نے واضح کیا کہ اختلاف رائے رکھنے والے افراد کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے، لیکن اس حق کے استعمال کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات پر بات کرتے ہوئے انوپم کھیر نے کہا کہ جمہوریت میں کسی الزام کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ضروری ہیں۔
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ اگر انہیں انتخابی عمل یا الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے تو وہ قانونی اور آئینی طریقے اختیار کریں اور اپنے دعووں کے ثبوت متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کریں۔
انوپم کھیر نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں وزیراعظم نریندر مودی کے کام کو دیکھتے ہوئے انہیں ان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کے مطابق، ملک کے کروڑوں لوگوں کے اس اعتماد کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر خود کو ٹرول کیے جانے کے خدشے پر انوپم کھیر نے کہا کہ جب وہ بالی ووڈ میں کام تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے اور ریلوے پلیٹ فارم پر بھی سوتے تھے، تب ان کے دادا نے ان سے کہا تھا کہ بھیگا ہوا آدمی کبھی بارش سے نہیں ڈرتا۔


