نیویارک: یوٹیوب میوزک نے اے آئی گانوں کے لیے نیا لیبل متعارف کرا دیا۔ اب سامعین کو واضح طور پر بتایا جائے گا کہ گانے کی آواز یا دھن مصنوعی ذہانت سے بنی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت بڑھانا اور اصل فنکاروں اور اے آئی موسیقی میں فرق واضح کرنا ہے
یوٹیوب نے اپنے میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب میوزک پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کیے گئے گانوں کے لیے خصوصی لیبل متعارف کرانا شروع کردیے ہیں۔ اس نئے فیچر کا مقصد صارفین کو یہ بتانا ہے کہ وہ جو موسیقی سن رہے ہیں، اس کی آواز یا دھن اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے یا اس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیلی کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ لیبل مرحلہ وار متعارف کرائے جارہے ہیں اور ان کے لیے وہی خودکار اے آئی شناختی ٹیکنالوجی اور اصول استعمال کیے جائیں گے جو یوٹیوب اپنے ویڈیو پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی نشاندہی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
گانے کے ساتھ نظر آئے گا اے آئی لیبل
یوٹیوب میوزک کے نئے فیچر کے تحت اے آئی سے تیار موسیقی کا لیبل براہ راست میوزک پلیئر کے انٹرفیس میں دکھائی دے گا۔ یہ گانے اور فنکار کے نام کے نیچے، جبکہ پلیئر کے کنٹرولز کے اوپر نظر آئے گا۔
صارف اس لیبل پر کلک کرے گا تو ایک پیغام سامنے آئے گا، جس میں بتایا جائے گا کہ آڈیو کو اے آئی کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے یا مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
اس طرح صارفین کو گانا سنتے وقت ہی اس کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں معلومات مل سکیں گی، بجائے اس کے کہ انہیں یہ جاننے کے لیے الگ سے تلاش کرنا پڑے۔
یوٹیوب اے آئی سے بنے گانوں کی شناخت کیسے کرے گا؟
کمپنی اپنے ملکیتی اے آئی شناختی ٹولز کی مدد سے ایسے گانوں کی نشاندہی کرے گی جن کی دھنیں یا آوازیں جنریٹو اے آئی ماڈلز کے ذریعے تیار کی گئی ہوں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب موسیقی کی صنعت سے وابستہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کرے گا تاکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ٹریکس کی شناخت اور ان کی درست درجہ بندی کی جاسکے۔
یوٹیوب کے مطابق، اسی موسیقی کے لیے اس کے مرکزی ویڈیو پلیٹ فارم پر بھی اے آئی سے متعلق لیبل دکھائے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی گانا یوٹیوب میوزک اور یوٹیوب دونوں پر دستیاب ہے تو صارفین کو دونوں جگہ اس کے اے آئی استعمال سے متعلق معلومات مل سکتی ہیں۔
اگر کسی اصلی گانے پر غلط لیبل لگ جائے تو کیا ہوگا؟
یوٹیوب نے اس امکان کو بھی تسلیم کیا ہے کہ خودکار شناختی نظام کسی گانے کو غلطی سے اے آئی سے تیار کردہ قرار دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں فنکار اپنی موسیقی کی اے آئی سے متعلق معلومات یا ڈسکلوژر کی حیثیت کو درست کرنے کی درخواست دے سکیں گے۔
تاہم کمپنی کے مطابق بعض مخصوص صورتوں میں یہ انکشاف مستقل بھی رہ سکتا ہے۔ اس لیے خودکار شناخت کے ساتھ فنکاروں اور میوزک پارٹنرز کا کردار بھی اہم ہوگا۔
یوٹیوب نے اے آئی مواد کی شناخت کب شروع کی؟
یوٹیوب نے 2024 میں ویڈیوز کے لیے ایسے لیبل متعارف کرائے تھے جن کے ذریعے تخلیق کار اپنے مواد میں اے آئی کے استعمال کا انکشاف کرسکتے تھے۔ اس وقت لیبل بنیادی طور پر تخلیق کار کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر منحصر تھے۔
بعد میں مئی 2026 میں کمپنی نے خودکار اے آئی شناختی نظام متعارف کرایا، جس کا مقصد ایسے مواد کی نشاندہی کرنا تھا جس میں اے آئی استعمال ہوئی ہو، چاہے تخلیق کار نے خود اس کا انکشاف نہ کیا ہو۔
ویڈیوز کے معاملے میں یوٹیوب ویو اور ڈریم اسکرین جیسے اپنے اے آئی ٹولز، سے تیار کردہ مواد کی شناخت کرتا ہے۔ کمپنی سی 2 پی اے میٹا ڈیٹا کو بھی استعمال کرسکتی ہے، جو مواد کی تیاری کے طریقے سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔
اب یہی اصول موسیقی کے شعبے میں بھی استعمال کیے جارہے ہیں، جہاں اے آئی سے تیار دھنوں اور آوازوں کی شناخت ایک اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے۔
اسپاٹیفائی بھی اے آئی مواد کی شناخت پر کام کررہا ہے
یوٹیوب میوزک پہلا میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم نہیں جس نے اے آئی سے متعلق لیبل متعارف کرائے ہیں۔ اس سے قبل اسپاٹیفائی نے بھی اے آئی سے تیار کردہ فنکاروں کے پروفائلز کی نشاندہی کے لیے لیبل متعارف کرانے شروع کیے تھے۔
اسپاٹیفائی کے نظام میں بعض پروفائلز کو لائکلی اے آئی پرسونا اور اے آئی پرسونا جیسے بیجز کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ نظام بنیادی طور پر فنکاروں کے پروفائلز کی شناخت پر مرکوز ہے، جبکہ یوٹیوب میوزک کا نیا فیچر گانوں کی آڈیو میں اے آئی کے استعمال کی نشاندہی بھی کرے گا۔
صارفین اور موسیقی کی صنعت کو کیا فائدہ ہوگا؟
جنریٹو اے آئی کی مدد سے اب ایسی آوازیں، دھنیں اور گانے تیار کیے جاسکتے ہیں جو سننے میں روایتی موسیقی جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں صارفین کے لیے یہ جاننا مشکل ہوسکتا ہے کہ کسی گانے میں حقیقی انسانی آواز استعمال ہوئی ہے، اے آئی سے آواز تیار کی گئی ہے یا اصل ریکارڈنگ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیلی کی گئی ہے۔
نئے لیبل صارفین کو اس بارے میں زیادہ شفاف معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ اس سے فنکاروں، موسیقاروں اور موسیقی کے حقوق رکھنے والے اداروں کو بھی اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت میں مدد ملنے کی توقع ہے۔


