ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے الزام میں 3 ملزمان گرفتار

ممبئی: بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین مبینہ ملزمان کو راجستھان کے شہر کوٹا سے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان ممبئی سے فرار ہونے کے بعد دہلی اور نیپال جانے کی کوشش کررہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ 18 اکتوبر کی رات پیش آیا، جب ٹائیگر شروف گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہونے والے تھے۔ اداکار حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور فردوس کے بائیں ہاتھ میں گولی لگی۔

کوٹا کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تیجسوینی گوتم کے مطابق تینوں مشتبہ افراد کو پیر کی صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے، تاہم ابتدائی طور پر ان کے قبضے سے کوئی اسلحہ یا قابلِ ذکر شے برآمد نہیں ہوئی۔

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان فائرنگ کے بعد ممبئی سے فرار ہوکر پہلے سورت پہنچے اور پھر جے پور جانے والی ٹرین میں سوار ہوگئے۔ ممبئی پولیس نے ان کا سراغ لگانے کے بعد راجستھان پولیس سے رابطہ کیا، جس کے تعاون سے تینوں کو حراست میں لیا گیا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو ممبئی منتقل کیا جائے گا، جہاں واقعے کی مزید تحقیقات ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب حملے میں بشنوئی گینگ کے ممکنہ کردار سے متعلق سوالات پر دیویندر فڑنویس نے کہا کہ کسی بھی گینگ کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، تاہم ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لے کر کارروائی کی جاتی ہے۔

لارنس بشنوئی کو تحویل میں لینے سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ممبئی پولیس قانونی کارروائی شروع کرچکی ہے۔ تاہم فائرنگ کے واقعے میں کسی گینگ کے ملوث ہونے کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔