خواتین جسم کے 11 حصوں میں مردوں سے زیادہ درد محسوس کرتی ہیں: عالمی تحقیق

لندن: دنیا بھر کے 118 ملکوں میں کی گئی تحقیقی کے مطابق خواتین جسم کے مختلف حصوں میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ درد محسوس کرتی ہیں۔

دنیا کے 118 ممالک کے 61 لاکھ 25 ہزار 459 افراد کے ڈیٹا پر مبنی ایک بڑی عالمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں سر، چہرے، گردن، کندھوں، ہاتھوں، کلائیوں، کہنیوں، پاؤں، ٹخنوں، گھٹنوں، سینے، کمر، پیٹ اور کولہوں سمیت زیرِ مطالعہ 11 جسمانی حصوں میں درد کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

محققین کے مطابق درد کی شرح میں صنفی فرق مختلف اقسام کے درد میں مختلف تھا، اس لیے اس کی کوئی ایک حتمی وجہ قرار نہیں دی جا سکتی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے وابستہ محقق میٹ فلنگم کے مطابق خواتین میں زیادہ درد کی شکایات کے پیچھے حیاتیاتی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہو سکتا ہے۔

ان عوامل میں جنسی ہارمونز، مدافعتی نظام کی کارکردگی، اعصابی نظام میں درد کو محسوس اور پراسیس کرنے کے طریقے، ذہنی دباؤ، تولیدی صحت سے متعلق مسائل، کام کا بوجھ اور طبی سہولتوں تک رسائی شامل ہیں۔

محققین کے مطابق جانوروں پر ہونے والی بعض تحقیقات میں بھی یہ اشارے ملے ہیں کہ مردوں اور خواتین میں درد کی حساسیت پیدا کرنے والے مدافعتی راستے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان نتائج کو انسانوں میں درد کے تمام فرق کی حتمی وضاحت نہیں سمجھا جا سکتا۔

یونیورسٹی آف سنسناٹی میڈیکل سینٹر میں درد کے علاج سے وابستہ ماہر ڈاکٹر شوچیتا گارگ کے مطابق خواتین میں درد کے زیادہ پائے جانے کی وجوہات پیچیدہ ہیں، جن میں ہارمونز، حیاتیاتی تبدیلیوں اور نفسیاتی و سماجی عوامل کا کردار ہو سکتا ہے۔

کمر درد سب سے عام

تحقیق میں کمر درد سب سے زیادہ عام شکایات میں شامل رہا، جس کی شرح تقریباً 40 فیصد بتائی گئی۔

ماہرین کے مطابق خواتین میں ماہواری کے دوران درد، اینڈومیٹریوسس، شرونیی حصے کے درد، مائیگرین اور چہرے کے بعض اقسام کے درد کا تعلق ہارمونز اور تولیدی صحت سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مدافعتی نظام، اعصابی حساسیت اور ذہنی دباؤ بھی درد کی شدت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں خواتین کی جانب سے درد کی زیادہ رپورٹنگ سامنے آئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاتون مرد کے مقابلے میں زیادہ درد محسوس کرتی ہے یا ہر قسم کے درد کی شدت خواتین میں لازماً زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ مردوں اور خواتین دونوں میں جسم کے مختلف حصوں میں درد کی شرح میں سب سے تیز اضافہ عموماً 20 سے 55 سال کی عمر کے دوران دیکھا گیا۔

محققین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ 55 سال سے پہلے درد اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس عمر کے دوران درد کی شکایت کرنے والے افراد کا تناسب نسبتاً تیزی سے بڑھتا ہے۔

کمر، کولہوں اور گھٹنوں کے درد کی شرح بڑی عمر میں بھی بڑھ سکتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر درد کی شکایات بعض مطالعات میں 75 سال یا اس سے زائد عمر میں زیادہ دیکھی گئیں۔

ماہرین کے مطابق جوانی اور درمیانی عمر میں جسمانی محنت، چوٹوں، بار بار ایک ہی حرکت کرنے، وزن میں اضافے، میٹابولک بیماریوں، ذہنی دباؤ اور نیند کی خرابی جیسے عوامل وقت کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ عوامل درد کی حساسیت اور جسمانی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ذہنی دباؤ بھی درد بڑھاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق درد صرف جسمانی چوٹ یا کسی ایک بیماری کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اعصابی نظام، نفسیاتی کیفیت، نیند، ذہنی دباؤ اور سماجی حالات بھی اس تجربے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شُچیتا گارگ کے مطابق ڈپریشن، اضطراب، صدمے کے تجربات، دوسروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں اور بیماری کی تشخیص یا علاج میں تاخیر بھی بعض افراد میں درد کے بوجھ میں اضافے سے متعلق ہو سکتی ہیں۔

تاہم اس تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ درد محض ذہنی کیفیت کا نتیجہ ہے۔ دائمی درد حقیقی طبی مسئلہ ہے اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔

ماہرین نے اس تحقیق کے نتائج کی تشریح میں احتیاط پر زور دیا ہے۔ چونکہ زیادہ تر ڈیٹا مختلف آبادیوں میں ایک مخصوص وقت یا مدت کے دوران درد کی موجودگی سے متعلق تھا، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک ہی فرد میں عمر بڑھنے کے ساتھ درد کس رفتار سے تبدیل ہوتا ہے۔

اسی طرح تحقیق میں عام درد کی شرح کا جائزہ لیا گیا ہے دائمی درد کا نہیں ۔ لہٰذا نتائج کو تمام اقسام کے دائمی درد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

محققین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کم انسانی ترقیاتی اشاریے والے خطوں، خصوصاً سب صحارا افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں سے معیاری ڈیٹا کی دستیابی محدود رہی۔ اس لیے دنیا کے تمام خطوں میں درد کے رجحانات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

ماہرین کے مطابق درد کو نظر انداز کرنے یا صرف ادویات کے ذریعے دبانے کے بجائے اس کی ممکنہ وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ علاج کا انتخاب درد کی نوعیت، مقام، شدت اور بنیادی سبب کے مطابق ہونا چاہیے۔

مناسب جسمانی سرگرمی، فزیوتھراپی، نیند میں بہتری، ذہنی دباؤ کا انتظام اور ضرورت کے مطابق ادویات علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔ بعض مریضوں میں علمی و رویہ جاتی تھراپی (سی بی ٹی) اور قبولیت و عزم پر مبنی تھراپی (اے سی ٹی) بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کا مقصد صرف درد کو مکمل ختم کرنا نہیں، بلکہ نقل و حرکت، روزمرہ زندگی، نیند اور مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہونا چاہیے۔

مجموعی طور پر یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ درد کی روک تھام اور علاج کے لیے جنس، عمر، جسمانی حالات اور سماجی عوامل کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔ تاہم خواتین میں درد کی زیادہ شرح کے تمام اسباب سمجھنے اور مختلف خطوں میں اس کے رجحانات واضح کرنے کے لیے مزید معیاری تحقیق کی ضرورت ہے۔