بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن نے فلم انڈسٹری میں صنفی مساوات اور اداکاراؤں کے معاوضوں میں فرق ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اداکاراؤں کے ساتھ بھی پٹھان اور دھورندھر جیسی بڑے بجٹ کی فلمیں بنائی جانی چاہئیں۔
بھارتی میڈیاکے مطابق مقامی ٹی وی کے مذاکرے میں شرکت کے دوران کریتی سینن نے بھارتی فلم انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صنفی مساوات اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور مکمل برابری کے حصول میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر صنفی مساوات تک پہنچنے میں تقریباً 120 سال لگ سکتے ہیں۔
کریتی نے کہا کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو رہی ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع کی وجہ سے خواتین کے لیے بہتر اور مضبوط کردار لکھے جا رہے ہیں، جبکہ اب صرف مرد مرکزی کرداروں پر مبنی فلمیں ہی نہیں بلکہ خواتین کی قیادت میں بھی کئی فلمیں بن رہی ہیں۔
کریتی سینن نے کہا کہ خواتین میڈیا اور اداکاری کے شعبے میں بڑی تعداد میں آگے آ رہی ہیں، تاہم معاوضوں اور ادائیگیوں میں اب بھی واضح فرق موجود ہے، جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق فلم انڈسٹری میں معاوضے کا معاملہ اس حساب سے بھی دیکھا جاتا ہے کہ کسی اداکار یا اداکارہ کی فلم تھیٹرز سے کتنی آمدنی حاصل کرتی ہے اور پروڈیوسر کو کتنا ریٹرن ملتا ہے۔
کریتی نے اپنی آئندہ سولو لیڈ فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلم ان کے کندھوں پر ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ناظرین اسے بھی اتنی ہی پذیرائی دیں جتنی کسی مرد اداکار کی فلم کو ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کی مرکزی کردار والی فلمیں بڑی کامیابیاں حاصل کرنے لگیں اور سینما گھروں میں شاندار بزنس کریں تو انڈسٹری میں بھی تبدیلی آئے گی۔
کریتی سینن نے کہا کہ بعض مرد اداکار یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ زیادہ معاوضہ اس لیے لیتے ہیں کیونکہ ان کی فلمیں سینما گھر بھر دیتی ہیں۔
اداکارہ نے اسی دلیل کو خواتین اداکاراؤں کے لیے بھی آزمانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب خواتین اداکاراؤں کی فلمیں بھی سینما گھروں کو بھر دیں گی تو پھر معاملات بدلنے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ناظرین بھی صنفی فرق کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہیں فلم دیکھتے وقت یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ مرکزی کردار مرد ادا کر رہا ہے یا عورت۔
کریتی سینن نے کہا کہ اگر ناظرین بڑے پیمانے پر بننے والی ایکشن اور کمرشل فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں تو فلم سازوں کو خواتین اداکاراؤں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی فلمیں بنانے کا حوصلہ دکھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پروڈیوسرز کو خواتین کی مرکزی کردار والی بڑے بجٹ کی فلموں میں اسی طرح سرمایہ کاری کا خطرہ مول لینا چاہیے جیسے مرد اداکاروں کی فلموں میں لیا جاتا ہے۔
اداکارہ نے اپنی فلم کریو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں تین خواتین مرکزی کرداروں میں تھیں اور فلم نے سینما گھروں میں اچھی کارکردگی دکھائی، جس سے پروڈیوسرز کو اس نوعیت کے مزید منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکتی ہے۔
کریتیکے مطابق اگر کہانی مضبوط ہو تو فلم کی کامیابی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ اس میں مرکزی کردار مرد اداکار ادا کر رہا ہے یا خاتون۔
بھارتی اداکارہ نے واضح کیا کہ صنفی مساوات صرف فلم انڈسٹری کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف شعبوں سے جڑا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب خواتین کو بھی بڑے بجٹ، بڑے مواقع اور بڑے کمرشل منصوبوں میں وہی اعتماد دیا جائے گا جو مرد اداکاروں کو حاصل ہے۔


