نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن طلبہ کو دردمند قیادت کےگُر سکھائیں گی

سڈنی: نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے سیاست سے دوری کے بعد تعلیم کے شعبے میں نئی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ وہ اب یونیورسٹی آف سڈنی میں طلبہ کو ہمدردانہ قیادت، سماجی ہم آہنگی اور شہری اعتماد جیسے موضوعات پر تعلیم اور رہنمائی فراہم کریں گی۔

جیسنڈا آرڈرن رواں ماہ یونیورسٹی آف سڈنی میں پروفیسر آف پریکٹس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں شروع کر رہی ہیں۔ یونیورسٹی کے مطابق وہ طلبہ کے لیے خصوصی لیکچرز، ماسٹر کلاسز اور مینٹورشپ پروگرامز کا حصہ بنیں گی۔

آرڈرن نے یونیورسٹی سے وابستگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد ان کی توجہ خاص طور پر قیادت کے تصور پر مرکوز رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسی قیادت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو لوگوں کی ضروریات اور احساسات کو سمجھ سکے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے مطابق آرڈرن کا تعلیمی کام ہمدردانہ قیادت، سماجی اتحاد اور شہری اعتماد کے ساتھ ساتھ عالمی اور اقدار پر مبنی قیادت کے نئے طریقوں کی تشکیل پر مرکوز ہوگا۔

جیسنڈا آرڈرن نے 2017 میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بن کر عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کے دورِ حکومت میں نیوزی لینڈ کو قدرتی آفات، کورونا وبا اور 2019 کے کرائسٹ چرچ مساجد پر دہشت گرد حملے جیسے بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے ان کی حکومت کی پالیسیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا، تاہم ملک میں سخت پابندیوں کے باعث ان کی مقبولیت کو نقصان بھی پہنچا۔ معاشی مشکلات اور کورونا سے متعلق پالیسیوں پر ردعمل کے باعث ان کی حکومت کو اپنے دوسرے دور کے اختتام پر سیاسی دباؤ کا سامنا رہا۔

آرڈرن نے جنوری 2023 میں وزارتِ عظمیٰ اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔ اس کے بعد انہوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی وابستگی اختیار کی، جبکہ رواں سال کے آغاز میں وہ سڈنی منتقل ہوگئیں۔

اب یونیورسٹی آف سڈنی میں ان کی نئی ذمہ داری سیاست کے بجائے قیادت کی تعلیم اور نوجوانوں کی رہنمائی کے شعبے میں ان کے تجربے کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔