لندن: انگلینڈ کے اسٹار فٹبالر اور بائرن میونخ کے اسٹرائیکر ہیری کین نے فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا انفرادی اعزاز بیلن ڈی اور جیت کر تاریخ رقم کردی۔ وہ 25 سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے برطانوی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
ہیری کین نے گزشتہ سیزن میں کلب اور ملک کی جانب سے مجموعی طور پر 73 گول اسکور کیے، جس کے بعد انہیں دنیا کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز کا مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔
کین نے ستمبر میں بائرن میونخ کی جانب سے جرمن بنڈس لیگا میں بھی ایک اہم سنگ میل عبور کیا اور صرف 98 لیگ میچز میں 100 گول مکمل کرکے اس مقام تک سب سے تیزی سے پہنچنے والے کھلاڑی بن گئے۔
انگلش اسٹرائیکر کے ریکارڈز صرف بائرن تک محدود نہیں۔ وہ ٹوٹنہم کے تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جہاں ان کے نام 280 گول ہیں۔ انگلینڈ کی قومی ٹیم کے لیے وہ ریکارڈ 91 گول کرچکے ہیں جبکہ چیمپئنز لیگ میں بھی 58 گول کے ساتھ سب سے زیادہ اسکور کرنے والے انگلش کھلاڑی ہیں۔
تاہم کین کے غیر معمولی انفرادی ریکارڈز کے مقابلے میں ان کی ٹرافیوں کی تعداد کم رہی ہے۔ 2023 میں بائرن میونخ سے منسلک ہونے کے بعد انہیں جرمنی میں ملکی سطح کی کامیابیاں ضرور ملیں، لیکن کلب اور قومی ٹیم کے ساتھ بڑی یورپی ٹرافی اب تک ان کے ہاتھ نہ آسکی تھی۔
کین ٹوٹنہم کی جانب سے 2019 کی چیمپئنز لیگ فائنل میں لیورپول کے خلاف شکست کا بھی حصہ رہے، جبکہ انگلینڈ کے ساتھ وہ دو مرتبہ یورپی چیمپئن شپ کے فائنل میں شکست کھا چکے ہیں۔
گول کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ کین نے خود کو ایک بہترین پلے میکر کے طور پر بھی منوایا ہے۔ وہ نہ صرف گیند کو جال میں پہنچانے بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے اور کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری لائے ہیں۔
بائرن میونخ کے کوچ ونسنٹ کمپانی نے کین کی پاسنگ، محنت اور کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ گول کرنے کے شاندار اعداد و شمار کے ساتھ ٹیم کی پیش رفت میں کردار ادا کرنا آسان کام نہیں۔
کین کے ساتھی کھلاڑی جوناتھن تاہ نے بھی ان کی محنت کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کے مطابق کین تربیت سے پہلے اور بعد میں بھی مسلسل محنت کرتے ہیں اور کامیابی کے باوجود کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔
کین کا سفر بھی آسان نہیں رہا۔ ٹوٹنہم کے ابتدائی دور میں انہیں ٹیم میں مستقل جگہ بنانے میں مشکلات پیش آئیں اور مختلف کلبوں کو قرض پر بھی بھیجا گیا۔ 2011 میں ٹوٹنہم کے لیے پہلا گول کرنے کے بعد انہیں اگلا گول کرنے میں تقریباً دو سال لگے۔
سال 2014-15 کے شاندار سیزن کے بعد بھی بعض حلقوں نے انہیں صرف ایک سیزن کا کمال قرار دیا، لیکن کین نے مسلسل عمدہ کارکردگی کے ذریعے اس تاثر کو غلط ثابت کیا۔
اب بیلن ڈی اور کی فتح نے کین کے طویل اور شاندار کیریئر کو ایک ایسے اعزاز سے نواز دیا ہے جس کی کمی ان کے شاندار گول اسکورنگ ریکارڈ کے باوجود محسوس کی جاتی تھی۔


