ایمباپے کو ماؤ زے تنگ پر مذاق مہنگا پڑ گیا: چین سے معافی مانگ لی

پیرس/بیجنگ: فرانس اور ریئل میڈرڈ کے معروف فٹ بالر کائلین ایمباپے کو چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق ایک مبینہ مذاق پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاملے پر معذرت کے باوجود متعدد چینی کمپنیوں نے ان کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کر دیے، جبکہ چین میں ہسپانوی فٹ بال لیگ لا لیگا کے میچوں کی نشریات بھی معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب فرانسیسی آن لائن پروگرام ’دی برج‘ سے منسوب ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس میں ایمباپے سے ان کی پسندیدہ میم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایسی تصویر کا ذکر کیا جس میں ان کا چہرہ ایک چینی رہنما کے جسم پر لگایا گیا تھا۔ ایمباپے نے اس شخصیت کو مبینہ طور پر ’چینی آمر‘ کہا، جبکہ تصویر میں سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ دکھائی دے رہے تھے۔

ایمباپے نے معافی میں کیا کہا؟

ایمباپے نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے ان سے نامناسب تبصرہ ہوا۔ ان کے مطابق، اب انہیں احساس ہے کہ ان کے الفاظ سے چین اور دنیا بھر میں آباد چینی برادری کے بہت سے افراد کو تکلیف پہنچی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ان کی بات سے دکھ پہنچا۔ ایمباپے نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا اور وہ چینی عوام اور ان کی تاریخ کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا معذرتی بیان فرانسیسی، چینی اور انگریزی زبانوں میں جاری کیا گیا۔

چینی کمپنیوں سے معاہدے ختم

ویڈیو سامنے آنے کے بعد چینی کمپنیوں نے ایمباپے کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کمپنیوں میں مشروبات بنانے والی ڈونگ پینگ، ڈیری مصنوعات کی بڑی کمپنی مینگ نیو اور پنیر بنانے والی شنگھائی ملک گراؤنڈ فوڈ ٹیک شامل ہیں۔

کمپنیوں نے اپنے بیانات میں قومی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے طرزِ عمل کی مخالفت کرتے ہوئے ایمباپے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس معاملے نے چین میں ان کے تجارتی تشہیری معاہدوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماؤ زے تنگ عوامی جمہوریہ چین کے بانی رہنما تھے اور 1949 سے 1976 میں اپنی وفات تک چینی سیاست پر گہرا اثر رکھتے تھے۔ چین سمیت دنیا بھر میں بائیں بازو کی سوچ رکھنےوالے افراد انہیں عظیم انقلابی رہنما گردانتے ہیں۔

لا لیگا اور ریئل میڈرڈ پر بھی دباؤ

رپورٹس کے مطابق، چین کے سرکاری میڈیا گروپ نے لا لیگا کے میچوں اور ایمباپے سے متعلق نشریات روکنے اور ان کے اشتہارات ہٹانے کے اقدامات کیے۔ لا لیگا نے بھی چینی شائقین کو پہنچنے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ کھلاڑی کے تبصرے ان کی ذاتی حیثیت میں تھے، لیگ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

لا لیگا کے صدر خاویر تباس نے بھی چین کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے اور اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا کہ چینی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے الفاظ اور اقدامات پر مختلف حلقوں کی جانب سے مخالفت سامنے آ سکتی ہے۔