نیویارک:امریکی ریاست فلوریڈا میں بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کیے گئے ایک بڑے خفیہ آپریشن کے دوران 281 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں معروف تفریحی مراکز ڈزنی لینڈ اور یونیورسل اسٹوڈیوز سمیت فلوریڈا کے تھیم پارکس میں کام کرنے والے 17 افراد بھی شامل ہیں۔
پوک کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق سات روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن کو ’پوک اراؤنڈ اینڈ فائنڈ آؤٹ ٹو‘ کا نام دیا گیا تھا۔ کارروائی کا مقصد ایسے بالغ افراد کو گرفتار کرنا تھا جو نابالغ بچوں کے استحصال سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے سفر کرکے فلوریڈا پہنچے تھے۔
حکام کے مطابق آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف مجموعی طور پر 488 الزامات عائد کیے گئے، جن میں 198 سنگین جرائم کے مقدمات شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان پر پہلے سے بھی مجموعی طور پر 798 مجرمانہ الزامات موجود تھے۔ کارروائی کے دوران 24 افراد کے پاس سے آتشیں اسلحہ ملنے جبکہ 32 افراد پر منشیات رکھنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اوتھمیئر نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ جو افراد بچوں کے استحصال کی نیت سے پوک کاؤنٹی پہنچے تھے، انہیں یہاں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے 17 افراد ریاست کے مختلف تھیم پارکس میں ملازمت کرتے تھے۔ ڈزنی انتظامیہ نے تفتیش کاروں کو آگاہ کیا کہ کارروائی سے منسلک گرفتار ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب پوک کاؤنٹی کے شیرف گریڈی جڈ کے مطابق یونیورسل اسٹوڈیوز کی جانب سے اپنے گرفتار ملازمین کی ملازمت کے حوالے سے تاحال کوئی تازہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے 40 کا تعلق پوک کاؤنٹی سے ہے، جبکہ دیگر ملزمان امریکہ کی 20 مختلف ریاستوں اور 18 ممالک سے وہاں پہنچے تھے۔
کارروائی میں کیوبا، وینزویلا، میکسیکو اور ہیٹی سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 32 ایسے تارکین وطن بھی گرفتار ہوئے جو حکام کے مطابق امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ ان میں سے 16 افراد کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے حوالے کردیا گیا ہے۔
فلوریڈا کے قانون کے تحت غیر قانونی جنسی سرگرمی کے مقصد سے کسی نابالغ سے ملاقات کے لیے سفر کرنا دوسرے درجے کا سنگین جرم ہے، جس پر 15 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
شیرف گریڈی جڈ نے مزید بتایا کہ تفتیش کار ایک گرفتار ملزم کے حوالے سے اضافی معلومات جمع کررہے ہیں، جو مبینہ طور پر یوتھ فٹ بال کوچ بھی رہ چکا ہے۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا اس شخص کے خلاف مزید بچوں سے متعلق شکایات یا واقعات بھی سامنے آسکتے ہیں۔


