آئی فون کی فروخت نے ایپل کی کمائی کے نئے ریکارڈ قائم کردیے

نیویارک: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مالی سال 2026 کی جولائی سے ستمبر تک کی سہ ماہی کے نتائج جاری کرتے ہوئے 114.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدن کا اعلان کیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کی آمدن اور فی حصص منافع دونوں تجزیہ کاروں کی توقعات سے بہتر رہے۔

ایپل کے مطابق سہ ماہی کے دوران آئی فون سے 57.6 ارب ڈالر کی آمدن ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جبکہ سروسز کی آمدن 31.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایپل کا خالص منافع بھی بڑھ کر 30.7 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ فی حصص آمدن 2.10 ڈالر رہی۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کے مطابق ستمبر کی سہ ماہی میں آئی فون کی آمدن نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ سروسز نے بھی اب تک کی سب سے زیادہ آمدن حاصل کی۔

شاندار مالی نتائج کے باوجود ایپل کو آئندہ سہ ماہی میں منافع کے مارجن میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر کیون پاریکھ نے خبردار کیا ہے کہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سری مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر اضافی اخراجات کے باعث مجموعی گراس مارجن کم ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق ستمبر کی سہ ماہی میں کمپنی کا گراس مارجن 47.9 فیصد رہا، تاہم دسمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے اس کے 45 سے 46 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

نئی مصنوعات

ایپل نے ستمبر میں آئی فون 18 پرو، آئی فون 18 پرو میکس اور اپنا پہلا فولڈ ایبل فون آئی فون ڈیو متعارف کرایا تھا۔ کمپنی نے صارفین کے لیے نئی مصنوعات اور مصنوعی ذہانت سے لیس سری کو بھی اپنی آئندہ کاروباری حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کو توقع ہے کہ نئی مصنوعات تعطیلات کے سیزن میں فروخت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

دوسری جانب ایپل کی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت کے ساتھ اخراجات کو قابو میں رکھنا بھی شامل ہے۔ کمپنی کو ایسے وقت میں میموری چپس کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے جب عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

اوپن اے آئی کے ساتھ قانونی تنازع

ایپل کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنے شراکت دار اوپن اے آئی کے ساتھ قانونی تنازع کا بھی سامنا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ایپل نے جولائی میں اوپن اے آئی کے خلاف تجارتی رازوں سے متعلق الزامات پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چیٹ جی پی ٹی پہلے ہی 2024 سے ایپل کی مصنوعات میں شامل ہے۔