امریکا میں 2028 کا صدارتی الیکشن اے آئی کے لیے فیصلہ کن ہوگا: اوپن اے آئی

سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر کرس لہانے نے کہا ہے کہ امریکا میں 2028 کا صدارتی انتخاب مصنوعی ذہانت (اے ائی) کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیک کرنچ کے مطابق کرس لہانے نے اپنے ایک آرٹیکل میں اے آئی کی معیشت کو بدلنے کی صلاحیت کا موازنہ صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی شہرہ آفاق نیو ڈیل سے کیا ہے، جو 1930 کی دہائی میں صنعتی انقلاب اور گریٹ ڈپریشن کے بعد معیشت کو سہارا دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

کرس لہانے نے کہا کہ آج امریکی اسی طرح اپنے معاشی مستقبل پر کنٹرول کھونے سے پریشان ہیں۔ سیاستدان صرف اے آئی مخالف جذبات پر بیان بازی کے بجائے ایک تیسرا راستہ تلاش کریں جو لوگوں کو اے آئی کے فوائد میں حصہ دار بنائے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شاندار جیت کے فوراً بعد سامنے آئے اپنے مضمون میں کرس لہانے نے مزدوروں کا تحفظ، تعلیم، اے آئی سیفٹی، اور ڈیٹا سینٹر ڈویلپمنٹ پر مشتمل پالیسی ترجیحات پیش کیں۔

لہانے کی تجاویز میں مزدوروں کو اے آئی سکلز سیکھنے کے لیے ٹیکس مراعات، کاروباری افراد کے لیے سرمایہ تک آسان رسائی، اور ملازمین کے لیے پرافٹ شیئرنگ شامل ہے۔

ڈیٹا سینٹرز کے معاملے پر کرس لہانے نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سینٹر موراٹوریم کی حمایت کرنے والے سیاستدان امریکا کی چین پر برتری کو خطرے میں ڈال دیں گے، اور اس کا موازنہ 2002 میں عراق جنگ کی اجازت دینے والے ووٹ سے کیا۔

اے آئی ناؤ انسٹی ٹیوٹ کی کیٹ برینن نے اسے اوپن اے آئی کے اے آئی کی ترقی تیز اور ریگولیشن کم کرنے کے ایجنڈے میں بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیو ڈیل کا نام لینا عوامی فلاح کے لیے ریاستی طاقت کی بات ہے، لیکن یہ ایک پرائیویٹ کمپنی لکھ رہی ہے جو اپنی ترقی کے لیے پالیسی مانگ رہی ہے۔ یہ غیر تاریخی اور نقصان دہ ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی نے خود 2024 میں کیلیفورنیا کے اے آئی سیفٹی بل 1047 کی مخالفت کی تھی، جس میں خطرناک اے آئی کو بند کرنے کے لیے کِل سوئچ کا مطالبہ تھا۔