کیٹی پیری کے سابق شوہر رسل برانڈ جنسی زیادتی کے مجرم قرار

لندن: معروف برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برانڈ کو لندن کی عدالت نے ریپ اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا۔ جیوری نے ان کے خلاف ایک ریپ اور تین جنسی حملوں کے الزامات ثابت کردیے، جس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں لے لیا گیا۔

الجزیرہ اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 5 نومبر 2026 کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں جیوری نے فیصلہ سنایا۔ 51 سالہ رسل برانڈ کو دو دیگر ریپ الزامات اور ایک اقدامِ غیر اخلاقی حملہ کے الزام سے بری کردیا گیا۔

جج جوئل بیننتھن نے اعلان کیا کہ رسل برانڈ کو پیر کے روز سزا سنائی جائے گی۔ مقدمے میں جرم ثابت ہونے کے بعد انہیں طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

رسل برانڈ 4 الزامات میں مجرم قرار

عدالت میں استغاثہ نے رسل برانڈ کے خلاف 1999 سے 2009 کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے مقدمہ پیش کیا تھا۔

جیوری نے ایک خاتون کے ساتھ ریپ اور تین خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کو درست قرار دیا۔

استغاثہ کے مطابق رسل برانڈ نے اپنی شہرت، اثر و رسوخ اور مشہور شخصیت ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

تاہم عدالت نے دو دیگر ریپ الزامات اور ایک اقدامِ غیر اخلاقی حملہ کے الزام میں انہیں بری کردیا۔

عدالت میں 6 خواتین کے بیانات

مقدمے کے دوران چھ شکایت کنندہ خواتین نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان خواتین کو برطانوی قانون کے تحت تاحیات شناخت ظاہر نہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ان خواتین کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم 2023 میں رسل برانڈ کے خلاف ایک ٹیلی ویژن دستاویزی پروگرام اور اخباری رپورٹس سامنے آنے کے بعد انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق الزامات ان برسوں سے متعلق تھے جب رسل برانڈ چھوٹے مزاحیہ پروگراموں سے شہرت حاصل کرتے ہوئے ٹیلی ویژن کے معروف میزبان اور ہالی ووڈ اداکار بن رہے تھے۔

ریپ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

مقدمے میں سب سے سنگین الزام 2009 میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون کی رسل برانڈ سے ملاقات ایک پروگرام کے بعد ہوئی تھی، جہاں دونوں کے درمیان ان کی ڈریسنگ روم میں رضامندی سے جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔

خاتون کے مطابق کچھ روز بعد وہ رسل برانڈ کے گھر گئی، جہاں ابتدا میں رضامندی سے قائم ہونے والا جنسی تعلق بعد میں ریپ میں تبدیل ہوگیا۔

خاتون نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے بعد رسل برانڈ نے انہیں خون اور گندگی صاف کرنے کے لیے کہا تھا۔

جیوری نے اس واقعے سے متعلق ریپ کے الزام میں رسل برانڈ کو مجرم قرار دیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق 2004 میں لندن کے ایک بار میں رسل برانڈ نے ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ایک پارٹی کے دوران رسل برانڈ ان کے قریب آئے اور ان کے جسم کو نامناسب طریقے سے چھوا۔

ایک اور واقعہ 2009 میں ایک تشہیری منصوبے کے دوران پیش آیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ رسل برانڈ نے ایک خاتون سے مساج کرنے کا مطالبہ کیا اور بعد میں اپنے دو ساتھیوں کے سامنے ان کے ساتھ نامناسب حرکت کی۔

تیسری جنسی زیادتی کا واقعہ 2004 یا 2005 میں ایک ریڈیو اسٹیشن میں پیش آیا، جہاں کام کرنے والی خاتون نے الزام لگایا کہ رسل برانڈ نے اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

جیوری نے ان تینوں واقعات سے متعلق الزامات میں بھی انہیں مجرم قرار دیا۔

رسل برانڈ نے الزامات مسترد کیے

رسل برانڈ مقدمے کے دوران اپنے خلاف تمام الزامات سے انکار کرتے رہے۔

ان کا مؤقف تھا کہ ماضی میں خواتین کے ساتھ ان کے تعلقات باہمی رضامندی سے قائم ہوئے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں۔

تاہم جیوری نے دستیاب شواہد اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد چار الزامات میں انہیں مجرم قرار دے دیا۔

پولیس کا ردعمل

لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ڈیٹیکٹو سپرنٹنڈنٹ اینڈی فرپی نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان خواتین کی غیر معمولی ہمت، ثابت قدمی اور عزم کا ثبوت ہے جنہوں نے آگے بڑھ کر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دی۔

ان کے مطابق رسل برانڈ نے اپنی شہرت اور اثر و رسوخ کو خواتین کے استحصال کے لیے استعمال کیا۔

کیٹی پیری کے سابق شوہر

رسل برانڈ برطانوی شوبز کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کامیڈی، ٹیلی ویژن اور ہالی ووڈ فلموں میں کام کیا۔

ان کی مشہور فلموں میں ’گیٹ ہِم ٹو دی گریک‘ اور ’آرتھر‘ شامل ہیں۔

وہ امریکی پاپ اسٹار کیٹی پیری کے سابق شوہر بھی ہیں۔ دونوں نے 2010 میں شادی کی تھی، تاہم 2011 میں ان کی علیحدگی ہوگئی تھی۔

رسل برانڈ کے خلاف عدالتی فیصلے نے برطانوی تفریحی صنعت میں ایک بار پھر جنسی استحصال اور مشہور شخصیات کے اثر و رسوخ سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔