اہم ترین

پاکستان کا ریلوے ٹریک زائد المیعاد اور سگنل کا فرسودہ : رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

وزیر ریلوے نے ملک کے ریلوے نظام سے متعلق دستاویزات قومی اسمبلی میں پیش کردی ہیں جس کے مطابق پاکستان کے 87 فیصد ریلوے ٹریک زائد المیعاد اور سگنل کا نظام 80 فیصد فرسودہ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے کے 233 انجن 20 سال کی مقررہ معاشی زندگی، 1183 ریلوے مسافر کوچز 35 سالہ عمر اور 6823 مال بردار ویگنیں اپنا 45 سال کا وقت پوری کر چکیں ۔

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات میں کہا گیاہےکہ ایم ایل ون کراچی پشاور ریلوے ٹریک 3110 کلومیٹر طویل، 72 فیصد زائد المیعاد ہو چکا۔

اسی طرح کوٹڑی،حبیب کوٹ، جیکب آباد ،ڈیرہ غازی خان،کوٹ ادو اور اٹک سٹی پر محیط 1254 کلومیٹر طویل ایم ایل2 ٹریک کا 88 فیصد زائد المیعاد ہو چکا ہے۔

روہڑی، سبی، کوئٹہ اور تفتان تک جانے والے 991 کلومیٹر طویل ایم ایل تھری ٹریک کا 92 فیصد حصہ اپنی عمر پورا کرچکا ۔ 3840 کلومیٹر طویل برانچ لائن کا 98 فیصد حصہ بھی زائد المیعاد ہو چکا۔

دستاویزات کےمطابق ریلوے پٹڑی کے بنیادی ڈھانچے کی حالت بھی مناسب نہیں۔ حفاظتی اقدامات کے طور پر ریلوے ٹریکس پر رفتار کم کی گئی ہے۔ ریلوے میں 80 فیصد فرسودہ ٹیکنالوجی،پرانے مکینیکل اور ریلے ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ سگنل کا انفراسٹرکچر آلات کی چوری اور ماحولیاتی خطرات کے لحاظ سے غیر محفوظ ہے۔

وزارت ریلوے نے اعتراف کیا ہے کہ سگنل کا نظام آپریشنل تاخیر اور حفاظتی خطرات کا باعث بن رہا ہے۔

دستاویزات مٰں بتاگیا ہےکہ پاکستان ریلوے کے پاس 1634 مسافر کوچز میں سے 1183 کوچز نے زندگی پوری کر لی ۔ ٹرین آپریشن کے لیے مسافر کوچز کی اوسط دستیابی صرف 1056 کوچز رہ گئی ہے۔

پاکستان ریلوے کے پاس 11045 مال بردار ویگنیں ہیں۔ جن میں سے 6823 نے 45 سالہ معاشی زندگی گزار کرلیں۔ اس طرح ٹرین آپریشن کے لیے مال بردار ویگنوں کی اوسط دستیابی صرف 6658 ویگنیں رہ گئی ہے۔

پاکستان ریلوے کے پاس 4سو 39 ڈیزل الیکٹرک لوکو موٹو انجن ہیں۔ 233 ریلوے انجن 20 برس کی زندگی پوری کر چکے ۔ اس وقت صرف 294 لوکو موٹو ( ریلوے انجن )دستیاب ہیں۔

پاکستان