اہم ترین

فورسز کو 3 ماہ کیلئے مشکوک شخص کو حراست میں رکھنے کا اختیار دینے کا بل منظور

قومی اسمبلی نے آرمڈ فورسز یا سول آرمڈ فورسز کو 3 ماہ کے لیے کسی بھی مشکوک شخص کو حراست میں رکھنے کے اختیارات دینے کا بل منظور کرلیا۔

ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024 کی شق وار منظوری دے دی گئی،

اپوزیشن نے انسداد دہشتگری ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک کی مخالفت کی۔

پی ٹیآئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نےکہا کہ آئین کے منافی کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 10 کے خلاف ہے۔سپریم کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ بنیادی آئین کے منافی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیکشن 11 میں تبدیلی کر کے حکومت کا لفظ شامل کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی فرد کو پہلے تین ماہ کے لیے اور پھر تین ماہ مزید بھی نظر بند رکھا جا سکے گا۔ آپ کے پاس دیگر قوانین بھی موجود ہیں ۔ اس طرح کے قوانین لانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قانون سازی سے پاکستان کے ہرشہری کو مجرم قرار دے دیا گیا، حکومت جب چاہے بغیر پوچھے کسی کو بھی گرفتار کرسکتی ہے، اس شخص کو اپنی بےگناہی خود ثابت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اس وقت مجرم ہے، حکومت یا ادارے کسی بھی وقت کسی بھی شہری کو گرفتار کر سکیں گے، ہم اس بل کی حمایت نہیں کرتے۔

پاکستان