مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی اپنی محفوظ اور پُرامن ریاست کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دہائیوں سے خلیجی خطہ مشرق وسطیٰ میں ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا اور متحدہ عرب امارات خود کو دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ جنگی صورتحال نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اب تک امارات پر تقریباً 1800 سے زائد میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، اگرچہ اماراتی فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا، تاہم اس صورتحال نے دبئی کی پُرسکون فضا کو متاثر کیا ہے۔
دبئی میں مقیم سوشل میڈیا انفلوئنسرز حکومت کے مؤقف کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک اب بھی محفوظ ہے۔
ریئلٹی شو “دبئی بلنگ” سے شہرت پانے والے کویتی نژاد امریکی شخصیت ابراہیم السمادی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ امریکا کی قونصلر ایڈوائزری کے باوجود امارات نہیں چھوڑیں گے کیونکہ یہ دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔
ادھر اماراتی حکام نے حملوں کی ویڈیوز یا حساس مقامات کی تصاویر شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ دبئی پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ افواہیں پھیلانے یا سکیورٹی تنصیبات کی تصاویر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
اسی دوران حکام اور کاروباری ادارے بھی معمولات زندگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دبئی مال اور جے بی آر بیچ جیسے سیاحتی مقامات پر رش میں واضح کمی دیکھی گئی ہے جبکہ بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی اعمار نے دکانوں اور ریسٹورنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ جنگ کے باوجود بند نہ ہوں کیونکہ اس سے امارات کی ساکھ اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرمایہ کاروں اور غیر ملکی کارکنوں کا اعتماد برقرار رکھنا ہے، کیونکہ امارات کی تقریباً 90 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے اور ملک کی معیشت سیاحت اور خدمات کے شعبے پر تیزی سے انحصار کر رہی ہے۔










