اہم ترین

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے عالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن بھی متاثر

ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ ہر گزرتےلمحے کےساتھ امریکا کے لئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہے۔ امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی الجھنیں چین کو عالمی سطح پر سفارتی اور معاشی فائدہ دے سکتی ہیں۔

فرانس 24 کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ بیجنگ کا دورہ کرنے والے تھے لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کےایران پر حملوں نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائےہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے امریکہ کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنے کے لیے اسے چین جیسے بڑے حریف کی مدد درکار ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے امریکا سے ٹیرف میں مزید نرمی اور نایاب معدنیات کی فراہمی پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکتا ہے۔

چین پہلے ہی دنیا میں نایاب معدنیات کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

اگرچہ بیجنگ میں ہونے والی ممکنہ ملاقات میں ٹیرف کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بڑے بریک تھرو کی توقع کم ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی برقرار ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین، امریکا کے اندرونی سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسی ترتیب دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی عوام کی بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی مخالفت کر رہی ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کو سفارتی کامیابی کی ضرورت ہے، وہیں شی جن پنگ اس موقع کو اپنی شرائط منوانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

پاکستان