ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اوپن اے آئی ایک ایسے جدید اے آئی سسٹم پر کام کر رہا ہے جو خود تحقیق کرنے اور انسانی انداز میں فیصلے لینے کی صلاحیت رکھے گا۔
رپورٹس کے مطابق یہ نیا آٹومیٹڈ اے آئی ریسرچر روایتی چیٹ بوٹس سے کہیں آگے ہوگا۔ اب تک اے آئی کا استعمال زیادہ تر سوالات کے جواب دینے یا کوڈنگ میں مدد کے لیے کیا جاتا تھا، لیکن یہ نیا سسٹم خود مسائل کو سمجھے گا، تحقیق کرے گا اور حل بھی تلاش کرے گا۔
کمپنی کے چیف سائنٹسٹ جیکب پیکیوکی کے مطابق یہ منصوبہ کمپنی کا طویل المدتی ہدف (نارتھ اسٹار) ہے۔ یہ اے آئی نہ صرف سوالات کے جواب دے گا بلکہ مکمل پروجیکٹس پر کام کرتے ہوئے مسلسل بہتری بھی لائے گا۔
اس سسٹم کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ خود منصوبہ بندی کرے گا، ڈیٹا کا تجزیہ کرے گا اور مختلف آئیڈیاز کو ٹیسٹ کرے گا۔ یہ اے آئی گھنٹوں یا دنوں تک بغیر رکے کام کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور ریاضی، طبیعیات اور لائف سائنس جیسے پیچیدہ شعبوں میں بھی استعمال ہو سکے گا۔
ابتدائی مرحلے میں اسے “اے آئی ریسرچ انٹرن” کے طور پر متعارف کرایا جائے گا، جو چھوٹے تحقیقی کام انجام دے گا۔ بعد ازاں اسے ایک ملٹی ایجنٹ سسٹم میں تبدیل کیا جائے گا جہاں کئی اے آئی مل کر بڑے منصوبوں پر کام کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سائنسی تحقیق، کاروباری فیصلوں اور نئی ٹیکنالوجی کی ترقی میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی جڑے ہیں۔ اگر اے آئی طویل وقت تک خود کام کرے تو غلط فیصلوں کا امکان بھی موجود ہے، اسی لیے اس کی نگرانی اور محفوظ استعمال پر بھی کام جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل انسانی سطح کی مصنوعی ذہانت (اے جی آئی) ابھی دور ہے، لیکن یہ پیش رفت اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔


