پاکستان کے معروف میزبان اور کامیڈین تابش یاشمی نے اپنے کیریئر کے سفر کو ایک دلچسپ تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی وی ہوسٹنگ اور سٹینڈ اپ کامیڈی سے فلموں تک پہنچنا ان کے لیے ایک نیا اور منفرد مرحلہ تھا۔
بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں تابش ہاشمی کہتے ہیں کہ وہ اپنی پہلی فلم (آگ لگے بستی میں) میں روایتی مزاحیہ کردار کے بجائے ولن کا انتخاب کیا، جسے وہ اپنے اندازِ مزاح کے مطابق ایک مختلف اور چیلنجنگ قدم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق سنجیدہ انداز میں مزاح پیش کرنا زیادہ اثر رکھتا ہے، اور یہی انداز انہوں نے فلم میں بھی اپنایا۔
تابش ہاشمی نے فلمی سیٹ پر کام کے تجربے کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ماہرہ خان اور فہد مصطفیٰ جیسے بڑے فنکاروں نے نہایت سادہ اور دوستانہ رویہ اپنایا، جس سے کام کرنا آسان اور لطف اندوز ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر پروجیکٹ کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ جاتے ہیں اور ڈائیلاگ کی مشق پہلے اپنے قریبی لوگوں کے سامنے کرتے ہیں تاکہ کیمرے کے سامنے بہتر پرفارمنس دے سکیں۔
تابش ہاشمی کا ماننا ہے کہ کامیڈین دراصل اداکار ہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ معاشرے کے مختلف کرداروں کا مشاہدہ کر کے انہیں اسٹیج پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہوسٹنگ بھی ایک کردار ہے جسے نبھانا پڑتا ہے۔
ان کے کیریئر کا آغاز کارپوریٹ ملازمت سے ہوا، مگر طالب علمی کے زمانے میں مباحثوں کے دوران مزاح کے استعمال نے انہیں اس میدان کی طرف مائل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سٹینڈ اپ کامیڈی میں قدم رکھا اور پھر ٹی وی ہوسٹنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی۔
ان کا پروگرام ہنسنا منع ہے اور کرکٹ شو ہارنا منع ہے ان کی کامیابیوں میں اہم سنگ میل ثابت ہوئے، جنہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی مقبولیت حاصل کی۔
تابش ہاشمی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بڑے وسائل اور ٹیم میسر ہو تو وہ مزید بہتر اور بڑا پروگرام پیش کر سکتے ہیں۔
کراچی اور لاہور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دونوں شہروں سے اپنی وابستگی ظاہر کی، تاہم سہولیات اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے لاہور کو بہتر قرار دیا، جبکہ کراچی کے مسائل پر بات کو شہر کی بہتری کے لیے ضروری قرار دیا۔
سوشل میڈیا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم مواقع بھی دیتا ہے اور منفی پہلو بھی رکھتا ہے، اس لیے محتاط استعمال ضروری ہے۔
نوجوانوں کے لیے ان کا مشورہ تھا کہ سٹینڈ اپ کامیڈی میں آنے سے پہلے مالی طور پر خود کو مستحکم کریں کیونکہ ابتدا میں یہ شعبہ فوری آمدن فراہم نہیں کرتا، تاہم مستقل مزاجی اور شوق کے ساتھ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔


