ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک حیران کن پیشگوئی سامنے آئی ہے جہاں اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی نتھنگ کے سی ای او کارل پائی نے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں اسمارٹ فونز سے روایتی ایپس مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔
ایس ایکس ایس ڈبلیو ایونٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ایپ سسٹم نہ صرف پرانا ہو چکا ہے بلکہ صارفین کے لیے غیر ضروری طور پر پیچیدہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آج کا اسمارٹ فون ماڈل تقریباً دو دہائیوں پرانا ہے جس میں لاک اسکرین، ہوم اسکرین اور الگ الگ ایپس کا تصور اب اپنی افادیت کھو رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کے ایک سادہ کام کے لیے بھی صارف کو کئی ایپس کھولنی پڑتی ہیں، جیسے کسی دوست سے ملنے کے لیے پہلے ریسٹورنٹ بک کرنا، پھر پیغام بھیجنا، کیلنڈر سیٹ کرنا اور آخر میں کیب بک کرنا۔ یہ پورا عمل صارف کو ایک ایڈمن کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
کارل پیئی کے مطابق آنے والا وقت مصنوعی ذہانت کا ہے، جہاں اے آئی ایجنٹس خود تمام مراحل کو سنبھالیں گے۔ صارف کو صرف اپنی ضرورت بتانی ہوگی، باقی کام جیسے بکنگ، ریمائنڈر اور ٹریول انتظامات خود بخود مکمل ہو جائیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیک کمپنیاں اس تبدیلی کے لیے تیار نہ ہوئیں تو وہ پیچھے رہ جائیں گی۔ ان کے مطابق ایپس کی جگہ ایسے سسٹمز تیار کرنا ہوں گے جو اے آئی کے ساتھ براہ راست جڑ سکیں، جیسے اے پی آئیز اور کنیکٹر پلیٹ فارمز۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ پیشگوئی حقیقت بن گئی تو اسمارٹ فون کے استعمال کا طریقہ مکمل طور پر بدل جائے گا، جہاں انسان کی بجائے اے آئی مرکزی کردار ادا کرے گا۔


