صدر مملکت آصٖ علی زرداری نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر پاکستان کی جانب سے مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو دانستہ بطور ہتھیار استعمال کرنا گہری تشویش کا باعث ہے مشترکہ آبی وسائل کو دانستہ بطور ہتھیار استعمال کرنا گہری تشویش کا باعث ہے۔۔۔
عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کے اثرات سب پر یکساں مرتب نہیں ہوتے۔ جب گھر کے قریب صاف پانی میسر نہ ہو تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور لڑکیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کئی حصوں میں گھرانے اب بھی دور دراز یا ناقابلِ بھروسہ آبی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں ہر روز پانی کے حصول میں طویل وقت صرف کرتی ہیں جو کہ اسکول، کام یا اپنے خاندان کے ساتھ گزارا جا سکتا تھا۔ صاف پانی کی عدم دستیابی صحت کے لیے خطرات کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی پر اضافی دباؤ بھی ڈالتی ہے۔ لہٰذا اس خلا کو پُر کرنا نہ صرف خدمت خلق بلکہ انصاف اور مساوی مواقع کی فراہمی کا سوال بھی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ صاف پانی اور نکاسیِ آب تک رسائی ایک بنیادی حق ہے جسے ہمارے آئین میں تسلیم کیا گیا ہے۔ پانی کی محفوظ اور بااعتماد فراہمی کو یقینی بنانا ایک قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے لیے آبی وسائل کے محتاط انتظام، واٹر سسٹم میں سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی و فیصلہ سازی میں خواتین کی بھرپور شرکت ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھرانے اور کمیونٹیز بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور پانی کے ذخیرہ اندوزی کے دیگر سادہ اقدامات اپنا کر اس میں براہِ راست حصہ ڈال سکتے ہیں۔ یہ اقدامات زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھرنے اور سطح آب کو بلند کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ عوام کے یہ چھوٹے اقدامات بڑے پیمانے پر پانی کی دستیابی پر واضح مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ پانی ہماری زراعت، ہمارے شہروں اور قدرتی ماحول کی بقا کا ضامن ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے ہمیں پانی کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر پاکستان کی جانب سے مذمت کا اعادہ کرتا ہوں۔ مشترکہ آبی وسائل کو دانستہ بطور ہتھیار استعمال کرنا گہری تشویش کا باعث ہے۔ بھارت کا معاہدے کو معطل کرنے، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی شیئرنگ میں خلل ڈالنے اور طے شدہ طریقہ کار میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا فیصلہ اس بین الاقوامی معاہدے کی روح کے منافی ہے جو چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے نظام کی منصفانہ تقسیم کا ضامن رہا ہے۔ ایسا طرزِ عمل غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ان لاکھوں لوگوں کے روزگار کو داؤ پر لگاتا ہے جن کا انحصار ان پانیوں پر ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت سرحد پار وسائل کے انتظام کے حوالے سے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ میں بھارت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی وعدوں کے مطابق اس معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد بحال کرے۔


