حکومت نے حکومت نے ہائی آکٹین پیٹرول (ایچ او بی سی) استعمال کرنے والوں پر بڑا مالی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے تحت پیٹرولیم لیوی میں 200 روپے فی لیٹر کا نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب ایچ او بی سی پر لیوی بڑھ کر 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو اس سے پہلے 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر تھی۔ اس اضافے کے بعد ملک بھر میں ہائی آکٹین کی نئی قیمت 535 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جس کے بعد صارفین کو مہنگا ایندھن خریدنا پڑے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں گزشتہ روز اجلاس ہوا تھاجس میں فیصلہ کیاگیا تھاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا بوجھ عوام کے بجائے مراعات یافتہ اور امیر طبقے پر ڈالا جائے۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کےبجائے عام استعمال کی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پیٹرول کی قیمت میں اضافےکے بجائے صرف ہائی آکٹین فیول مہنگا کرنےکا فیصلہ کیا۔ اس سے قومی خزانےپر اضافی بوجھ میں9 ارب روپے کی کمی ہوگی۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس کے اثرات بالواسطہ طور پر دیگر شعبوں تک بھی پہنچیں گے یا نہیں۔










