اہم ترین

حالیہ بحران سے دنیا کا کوئی ملک نہیں بچ پائے گا : سربراہ عالمی توانائی ایجنسی

عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ توانائی بحران سے کوئی ملک نہیں بچ پائے گا ۔

آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انٹر نینشل انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر فتح بیرول نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور یہ بحران 1970 کی دہائی کے دونوں بڑے توانائی بحرانوں سے بھی زیادہ خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران دراصل تیل اور گیس بحران کا مجموعہ بن چکا ہے۔اس بحران سے عالمی معیشت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے ۔ کوئی بھی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔اس لئے اس معاملے میں فوری عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ای اے رکن ممالک پہلے ہی 400 ملین بیرل تیل ذخائر سے جاری کرنے پر متفق ہوچکے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے ممالک سے مزید مشاورت جاری ہے۔ ضرورت پڑنے پر تیل کے محفوظ ذخائر بھی جاری کیے جا سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ خطے میں کم از کم 40 توانائی تنصیبات کو شدید نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی مشکلات بڑھادی ہیں۔

پاکستان