یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جو مستقبل کے معاہدوں، تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے متعدد بار سعودی عرب پر حملے کیے ہیں۔
سعودی سرکاری میڈیا نے جمعے کے روز بھی ریاض اور مشرقی علاقے میں دو ڈرونز کو مار گرانے کادعویٰ کیا ہے ۔ یوکرین گزشتہ چار برس سے روس کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے، اب اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے خلیجی ممالک کو فراہم کیے جانے والے مہنگے دفاعی سازوسامان کے معاہدے حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یوکرین کےصدر نے لکھا کہہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور نظام شیئر کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں، جو یوکرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں اور یہ تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ولادی میر زیلنسکی اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں تاہم یہ معاہدہ ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی ملاقات سے قبل طے پایا۔
اے ایف پی نے دو سینیئر حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اور سعودی عرب نے فضائی دفاع سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔










