اہم ترین

کار کمپنی فوکس ویگن کا صرف جرمنی سے 50 ہزار ملازم فارغ کرنے کا اعلان

جرمنی کی معروف کار ساز کمپنی فوکس ویگن نے ملک میں اپنی افرادی قوت میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق آئندہ چند برسوں میں یعنی 2030 تک تقریباً 50 ہزار ملازمتیں ختم کی جائیں گی۔

جرمنی کی نیوز وبب سائیٹ ڈی ڈبلیو کےمطابق فوکس ویگن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کمپنی کو منافع میں نمایاں کمی اور عالمی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

کمپنی کی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اخراجات کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ کاروبار کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اولیور بلیوم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایک بڑے مالیاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت ہر سال اربوں یورو کی بچت کا ہدف رکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس کمی کا بڑا حصہ مرکزی برانڈ ووکس ویگن کے ملازمین پر پڑے گا، جبکہ دیگر ذیلی کمپنیوں جیسے آڈی اور پورشیئے بھی اس سے متاثر ہوں گی۔

ماہرین کے مطابق کمپنی کو خاص طور پر چینی الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنیوں سے سخت مقابلہ درپیش ہے، جبکہ امریکا کی تجارتی پالیسیوں اور جرمنی میں بڑھتی پیداواری لاگت نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

گزشتہ سال کمپنی کا خالص منافع نمایاں حد تک کم ہو کر گزشتہ کئی برسوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس نے انتظامیہ کو فوری اصلاحات پر مجبور کر دیا ہے۔

کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ روایتی کاروباری ماڈل اب مؤثر نہیں رہا، اس لیے بدلتی عالمی مارکیٹ کے مطابق نئی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں۔

پاکستان