غزہ نسل کشی کے دوران فرانس کا اسرائیل کو مسلسل اسلحہ فراہم کرنے کا انکشاف

فرانس کی جانب سے اسرائیل کو عسکری ساز و سامان کی مسلسل فراہمی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس نے غزہ جنگ کے دوران یورپ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ارجینس پیلسٹائن اور پیپلز ایمبارگو فار پیلسٹائن کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان فرانس سے اسرائیل کو عسکری سامان کی 525 سے زائد ترسیلات کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان سپلائیز میں مختلف اقسام کے آلات شامل تھے، جیسے ہوائی جہازوں کے پرزے، سینسرز، بیٹریاں، اور مشین گنز کے لیے اجزاء، جو بظاہر مہلک ہتھیار نہیں مگر اسرائیلی فوجی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

فرانسیسی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کی برآمدات صرف “دفاعی نظام” تک محدود ہیں، جیسے کہ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم یا ایسے آلات جو کسی تیسرے ملک کو دوبارہ برآمد کیے جاتے ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ دفاعی اور جارحانہ استعمال کے درمیان حد اکثر دھندلی ہوتی ہے، اور ایک بار سامان برآمد ہو جانے کے بعد اس کے استعمال پر کنٹرول ممکن نہیں رہتا۔

تحقیقی رپورٹ میں فرانسیسی کمپنی سیرماٹ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، جس پر اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبیٹ سسٹمز کو ڈرونز کے لیے اہم پرزے فراہم کرنے کا الزام تھا۔ بعد ازاں فرانسیسی حکام نے اس کمپنی کی اسرائیل کو برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔

اسی طرح رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چارکس ڈیگال ایئرپورٹ اور دیگر بندرگاہیں عسکری سامان کی ترسیل میں اہم ٹرانزٹ پوائنٹس کے طور پر استعمال ہوئیں، جن کے ذریعے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے پرزے بھی اسرائیل پہنچائے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانس نے اسلحے کی تجارت کے عالمی معاہدے سمیت کئی بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کررکھے ہیں، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی برآمدات کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق یقینی بنائے۔

ادھر عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں نے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد کچھ یورپی ممالک جیسے اسپین اور بیلجئیم نے اسرائیل پر اسلحہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

فرانس اور اٹلی میں مزدوروں نے بھی اس معاملے پر احتجاج کیا، جہاں بندرگاہوں کے کارکنوں نے اسرائیل جانے والے جہازوں پر عسکری سامان لوڈ کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس سے دفاعی خریداری روک دے گا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ معاہدے بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ رپورٹ ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا دفاع کے نام پر کی جانے والی برآمدات درحقیقت جنگی کارروائیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس معاملے نے نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سطح پر اسلحہ تجارت، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔