اہم ترین

کلاؤڈ مائتھوس: اینتھروپک کا نیا اےآئی ماڈل سافٹ ویئر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن گیا

امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی ایتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا نیا اور اب تک عوام کے لیے جاری نہ کیا جانے والا اے آئی ماڈل کلاؤڈ مائیتھوس سافٹ ویئر سیکیورٹی میں موجود بڑی خامیوں کو بے نقاب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کے مطابق مائیتھوس نے عام استعمال ہونے والی ایپلیکیشنز میں ہزاروں ایسی کمزوریاں تلاش کی ہیں جن کے لیے اب تک کوئی سیکیورٹی پیچ یا حل موجود نہیں تھا۔ ان میں سے بعض خامیاں تقریباً 27 سال پرانی ہیں اور اب تک کسی کی نظر میں نہیں آئیں۔

اینتھروپک کے مائیک کریگر نے سان فرانسسکو میں منعقدہ ایک اے آئی کانفرنس کے دوران بتایا کہ کمپنی اس ماڈل کو فی الحال عوام کے لیے جاری نہیں کرے گی، بلکہ اسے سائبر سیکیورٹی ماہرین اور اوپن سورس کمیونٹی کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ دفاعی نظام کو پہلے سے مضبوط بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی کوڈنگ صلاحیتوں کے باعث یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ ہیکرز ان ٹیکنالوجیز کو پاس ورڈ توڑنے یا ڈیٹا چوری کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ایتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی اب اس سطح تک پہنچ چکا ہے جہاں یہ انتہائی ماہر انسانوں سے بھی بہتر انداز میں سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش اور ان کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس کے معاشی، سماجی اور قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان خطرات کے پیش نظر کمپنی نے گلاس ونگ کے نام سے ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا ہے، جس میں مائیکرو سافٹ، ایپل، ایمیزون، سسکو، براڈ کوم اور لینکس فاؤنڈیشن جیسی بڑی ٹیک اور سیکیورٹی کمپنیاں شامل ہیں

اس کے علاوہ کراوڈ اسٹرائیک اور پالو آلٹو نیٹ ورکس جیسی سائبر سیکیورٹی کمپنیاں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب وہ وقت ختم ہو گیا ہے جب کسی سیکیورٹی خامی کے غلط استعمال میں مہینے لگتے تھے—اے آئی کے ساتھ یہ عمل منٹوں میں ہو سکتا ہے۔ اس لئے اے آئی کی ترقی نے سیکیورٹی کے میدان میں فوری اقدامات کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ اب کسی خامی سامنے آنے اور اس کے غلط استعمال کے درمیان وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے اب وہ خامیاں بھی سامنے آ رہی ہیں جو روایتی طریقوں سے پکڑنا انتہائی مشکل تھا۔ ایک مثال میں مائیتھوس نے ایک ویڈیو سافٹ ویئر میں ایسی خامی دریافت کی جسے 50 لاکھ سے زائد بار ٹیسٹ کیا جا چکا تھا، مگر پھر بھی وہ نظرانداز رہی۔

ماہرین کے مطابق کلاؤڈ مائیتھوس جیسے ماڈلز ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتے ہیں، یہ ایک طرف سیکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں، تو دوسری طرف سائبر جرائم کے لیے بھی طاقتور ہتھیار بن سکتے ہیں۔

اسی لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان تعاون کو اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان