امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی حالیہ جنگ بندی کو امریکا کی مکمل اور واضح فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی۔
اے ایف پی کو دیے گئے ایک مختصر ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے اپنے تمام اہم مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ یہ 100 فیصد کامیابی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں طے پائی جب ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے والی تھی۔ دونوں ممالک نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جسے مستقبل کے ایک وسیع تر امن معاہدے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چین کے ساتھ آئندہ ملاقاتیں اس پیش رفت کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں، ان کی متوقع ملاقات چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہمیت کی حامل ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 15 نکاتی فریم ورک زیر غور ہے، جس میں سے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجاویز بھی قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔
ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حوالے سے سوالات پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہوگا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران اور امریکا اسرائیل اتحاد کے درمیان دو ہفتوں پرمحیط جنگ بندی ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عمل میں ثالثی کا کردار پاکستان نے ادا کیا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بحالی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے ابھی بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔










