یورپی یونین کے ملکوں میں بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے دوری ممکن بنانے کے لئے ایک ایپ پر مشتمل نظام متعارف کردیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئین نے اعلان کیا ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کیلئے تیار کی گئی ایپ اب تکنیکی طور پر مکمل اور استعمال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ایپ صارفین کو مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی عمر ثابت کرنے کی سہولت دے گی، بالکل اسی طرح جیسے دکانوں پر عمر کی تصدیق کی جاتی ہے۔
یہ ایپ اسی ماڈل پر تیار کی گئی ہے جو کووڈ-19 کے دوران ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ صارفین اسے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی شناختی دستاویزات جیسے پاسپورٹ یا آئی ڈی کارڈ کے ذریعے سیٹ اپ کر سکیں گے۔
ارسلا وان ڈر لیئین کے مطابق یہ ایپ مکمل طور پر خفیہ ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو ٹریک نہیں کیا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ یہ اوپن سورس ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی، جسے دیگر ممالک بھی اپنا سکتے ہیں۔
یورپی یونین پر بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب کچھ ممالک کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ فرانس، اٹلی سمیت کئی ممالک اس ایپ کی آزمائش پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایپ آن لائن پلیٹ فارمز کو قوانین پر عملدرآمد میں مدد دے گی، تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بچے وی پی این یا دیگر طریقوں سے اس نظام کو بائی پاس بھی کر سکتے ہیں۔
یورپی یونین پہلے ہی ڈیجیٹل قوانین کے حوالے سے دنیا کے سخت ترین ریگولیشنز رکھتا ہے، اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
یورپی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کو نقصان دہ اور غیر قانونی مواد سے محفوظ بنانا ہے، جبکہ مستقبل میں کم از کم عمر کی حد کے حوالے سے مزید تجاویز بھی زیر غور ہیں۔


