انسان ہار گئے! دوڑ کے مقابلے میں تیز رفتار روبوٹ نے نیا عالمی ریکارڈ بنادیا

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر نئے دن حیران کن پیش رفت ہورہی ہیں۔ انسانوایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ہاف میراتھن میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے علاقے یژوانگ میں منعقدہ ہاف میراتھن میں ایک جدید روبوٹ نے 21 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 50 منٹ 26 سیکنڈ میں طے کر کے سب کو حیران کر دیا۔ یہ کارکردگی نہ صرف اس ریس کے انسانی فاتح سے کہیں بہتر تھی بلکہ اس نے عالمی ریکارڈ ہولڈر جیکب کیپلیمو کے 57:20 کے وقت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ روبوٹ چینی ٹیک کمپنی آنر کی جانب سے تیار کیا گیا تھا اور جدید خودکار نیویگیشن سسٹم سے لیس تھا۔ ریس کے دوران روبوٹس اور انسانوں کے لیے علیحدہ لینز بنائی گئی تھیں تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔

مقامی افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر جمع ہوئے اور روبوٹس کی رفتار اور کارکردگی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کچھ روبوٹس نے تو رفتار میں لیجنڈری اسپرنٹر یوسین بولٹ کی یاد تازہ کر دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال یہی روبوٹ بار بار گر رہے تھے اور بہترین وقت ڈھائی گھنٹے سے بھی زیادہ تھا، مگر اس سال 100 سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس کی شرکت نے ٹیکنالوجی میں غیرمعمولی ترقی کا ثبوت دیا۔

ماہرین کے مطابق چین میں روبوٹکس اور ایمبوڈیڈ اے آئی پر سرمایہ کاری 2025 میں 73.5 ارب یوآن تک پہنچ چکی ہے، جو اس صنعت کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔

اگرچہ کچھ افراد اس پیش رفت کو حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں، وہیں کئی لوگوں میں خدشات بھی جنم لے رہے ہیں کہ تیزی سے ترقی کرتی یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانوں کی ملازمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔