دبئی: آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ، وسیم خان نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ چار سال تک اس کلیدی عہدے پر فائز رہنے کے بعد رواں سال جون کے آخر میں اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دیں گے۔
وسیم خان نے مئی 2022 میں جیوف ایلارڈائس کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا، جب ایلارڈائس کو آئی سی سی کا سی ای او مقرر کیا گیا۔
آئی سی سی جوائن کرنے سے قبل وسیم خان نے تقریباً تین سال تک پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔
وسیم خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے پہلے برطانوی نژاد مسلمان کھلاڑی تھے۔ انہوں نے 90 کی دہائی میں وارکشائر، سسیکس اور ڈربی شائر کی نمائندگی کی۔ 1995 میں وارکشائر کی ٹائٹل جیت میں ان کا کلیدی کردار رہا جہاں ان کی بیٹنگ اوسط 50 کے قریب رہی۔
انتظامی میدان میں انہوں نے لیسٹر شائر کاؤنٹی کے سی ای او اور ‘چانس ٹو شائن’ جیسی مشہور چیریٹی تنظیم کو مستحکم کرنے میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔
وسیم خان کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ٹی 20 اور ٹی 10 لیگز کی بہتات کے درمیان انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے جگہ بنانا تھا۔ ان کے دور میں 2023-27 کا فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) فائنل ہوا، جس میں نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کے مقابلوں میں اضافہ ہوا بلکہ تاریخ میں پہلی بار خواتین کا علیحدہ ایف ٹی پی بھی متعارف کرایا گیا۔
وسیم خان کا جانا آئی سی سی میں حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ گزشتہ دو سال میں سی ای او جیوف ایلارڈائس (جن کی جگہ سنجوگ گپتا آئے)، ہیڈ آف ایونٹس کرس ٹیٹلی اور اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ ایلکس مارشل بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔











