ایران میں ایک شخص کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے روابط کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ نے اس کارروائی کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کو تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد سزا دی گئی۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق مہدی فرید کو موساد کے ساتھ وسیع تعاون اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اسے فساد فی الارض جیسے سنگین جرم کا مرتکب ٹھہرایا، جس کی سزا ایران کے قانون میں سزائے موت ہے۔
دوسری جانب ملک سے باہر قائم انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ مہدی فرید ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کا سابق ملازم تھا، جسے 31 مئی 2023 کو گرفتار کیا گیا۔
ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ابتدائی طور پر اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم بعد میں کیس کا دوبارہ ٹرائل ہوا اور جولائی 2025 میں اسے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی۔
یہ پھانسی ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران میں نمایاں مقدمات میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں اس نوعیت کی سزاؤں میں اضافہ ہوا ہے، جس نے عدالتی شفافیت اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔











