اہم ترین

لبنان میں اسرائیلی بربریت: 2400 سے زائد افراد شہید، 62 ہزار گھر تباہ

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہی کی نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جہاں سرکاری اندازے کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران 62 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے یا شدید متاثر ہوئے۔

اےایف پی کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کونسل فار سائنٹیفک ریسرچ کے سربراہ شادی عبداللہ نے بتایا کہ تقریباً 45 دنوں کی جنگ میں 21700 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 40500 کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 2400 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

اگرچہ حال ہی میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ کی گئی ہے، تاہم لبنانی حکام، عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے زیر قبضہ علاقوں میں اب بھی گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔

جنگ بندی کے ابتدائی تین دنوں میں ہی مزید 428 مکانات تباہ اور 50 کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

لبنان کی حکومت جنگ بندی میں توسیع کے لیے اسرائیل کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے قبل بھی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 2023 سے جھڑپیں جاری تھیں، جو 2024 کے آخر میں مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئیں، جسے نومبر میں ایک جنگ بندی کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔

لبنان کی وزیر ماحولیات تمارا زین کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان جاری رہنے والی اس طویل کشیدگی نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی، جہاں مجموعی طور پر 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق حملوں میں نہ صرف رہائشی علاقے بلکہ بنیادی ڈھانچہ، عبادت گاہیں، زرعی زمینیں اور جنگلات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان