وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے بجلی خریداری کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فوری ہدایات جاری کر دی ہیں۔
پاور ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق وزیر نے واضح کیا ہے کہ بجلی کی خریداری مکمل طور پر نیشنل ایکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے طے کردہ قوانین اور میرٹ آرڈر کے مطابق کی جائے گی۔ انہوں نے ڈسکوز کو ہدایت کی کہ وہ انڈیپینڈینٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئیسمو) کے ساتھ مل کر میرٹ آرڈر پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
وفاقی وزیر نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کم لاگت والے پاور پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر چلایا جائے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت کم ہو اور صارفین پر بوجھ نہ بڑھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ڈسکو کو اس پالیسی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق چھوٹے پاور پروڈیوسرز سے بجلی خریدنے کے معاملات کی باقاعدہ انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں میرٹ کے برعکس فیصلے تو نہیں کیے گئے۔
پاور ڈویژن نے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ میرٹ آرڈر کے بغیر کسی بھی پاور پلانٹ کو چلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ ترجمان کے مطابق تمام ڈسکوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے جاری کردہ ضوابط پر من و عن عمل کریں۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت لانا، مالی نقصانات کم کرنا اور مہنگی بجلی کے بوجھ کو کم کرنا ہے، جو طویل عرصے سے عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان واقعات سے نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز پر بھی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


