آخری شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے امن مذاکرات کو ایران کی خوشامد قرار دے دیا

ایران امریکا کشیدگی ہر روز نیا اور دلچسپ موڑ لیتی ہے ۔ جہاں ایک طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی کی دھوم مچی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف ایرانی سابق ولی عہد رضا پہلوی ان مذاکرات کو ایک نیا اور متنازع رخ دے رہے ہیں۔

جہاں اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی بساط پر امن کی چالیں چلی جا رہی ہیں، وہیں برلن کی سڑکوں پر ایک الگ ہی محاذ کھل گیا ہے۔

ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے برلن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان مذاکرات کو خوشامد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ تہران کی قیادت کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ فضول ہے کیونکہ تشدد ان کے ڈی این اے میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا، اور حل صرف عوامی بغاوت میں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، وہیں انہوں نے ابھی تک رضا پہلوی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال تبدیلیِ نظام کے بجائے عاصم منیر کے امن فارمولے پر جوا کھیل رہا ہے۔


اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف طاقت کا مرکز اسلام آباد ہے جہاں سے ایک “ریجنل سیٹلمنٹ” کی کوشش ہو رہی ہے، اور دوسری طرف یورپی دارالحکومتوں میں جلاوطن ایرانی قیادت اس سیٹلمنٹ کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل” کی بات مانتے ہیں یا سڑکوں پر جاری اس احتجاج کی لہر کو ترجیح دیتے ہیں۔