ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے حالیہ تعطل کے بعد ہفتے کی صبح سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ جزوی طور پر بحال کر دیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ کے مطابق 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تھوپی گئی جنگ کے بعد ایران سے بیرون ملک فضائی آپریشن بند ہوگیا تھا ۔ تاہم اب اسے مرحلہ وار معمول پر لانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔
تہران کے امام خمینی انٹر نیشنل ایئرپورٹ حکام کے مطابق، آپریشنز کی بحالی کے بعد پہلی پروازیں مسقط (اومان)، استنبول (ترکیہ) اور مدینہ منورہ (سعودی عرب) جیسے اہم علاقائی مراکز کے لیے روانہ ہوئیں۔
یہ مقامات ایرانی مسافروں کے لیے ٹرانزٹ، تجارت اور مذہبی سفر کے حوالے سے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ محدود پیمانے پر بیرون ملک جانے والی سروسز شروع کر دی گئی ہیں، تاہم مکمل بحالی کے حوالے سے حتمی ٹائم لائن ابھی جاری نہیں کی گئی۔
تہران سے قبل ایران کے شمال مشرق میں واقع مشہد ایئرپورٹ کو بھی رواں ہفتے کے آغاز میں کھول دیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہوا بازی کے ڈھانچے کی یہ مرحلہ وار بحالی ظاہر کرتی ہے کہ حکام ترجیحی بنیادوں پر اہم ملکی اور بین الاقوامی روٹس کو فعال کر رہے ہیں۔
پروازوں کا یہ تعطل ایک ایسے وقت میں ختم ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی اور معاشی سرگرمیاں زیرِ بحث ہیں۔ حال ہی میں ایرانی حکام نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والے محصول سے پہلی آمدنی موصول ہونے کی بھی تصدیق کی ہے، جو ایران کی معاشی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوی ایشن حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز کب تک اپنی سروسز مکمل طور پر بحال


