مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کے عالمی بحران کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد میں اہم سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن کا محور خطے میں جنگ بندی اور ایران امریکا تنازع کا حل تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک جنگ کے مکمل خاتمے اور اپنے اصولی موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایران نے امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ تاہم ایران نے اپنے خدشات ثالث ملک پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے، کیونکہ ایرانی حکام فی الحال امریکی نمائندوں سے براہِ راست ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع نے جس میں آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری ناکہ بندی جیسے واقعات شامل ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کیا بلکہ عالمی اقتصادی ترقی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہوا تھا، جبکہ دوسرے دور کے لیے اب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی پاکستان آمد متوقع ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے ایران کو جوہری ہتھیار ترک کرنے کی شرط پر ایک بہتر معاہدے کی پیشکش کی ہے، جبکہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی پل کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔











