ایران امریکا مذاکرات کے باوجود خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز پر غور کر رہے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو ایک تحریری پیغام پہنچایا ہے، جس میں امن مذاکرات کیلئے اپنی شرائط واضح کی گئی ہیں۔ اس تجویز میں اہم پیش رفت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کی گزر گاہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران اس کے بدلے میں اپنی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیاں ختم کروانا چاہتا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق پیچیدہ مذاکرات کو بعد کیلئے مؤخر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف آبنائے کو کھولنا کافی نہیں، بلکہ وسیع معاہدہ درکار ہوگا۔

ادھر روسی صدر ولادی میر پیوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے کا عندیہ دیا۔

ان پیش رفتوں کے دوران عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ ٹوکیو، ہانگ کانگ اور سڈنی میں مندی جبکہ سیول اور سنگاپور میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے باعث وہ جلد کسی معاہدے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا ایک جامع معاہدے کے بغیر کسی عبوری حل کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔

دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں اس ہفتے ہونے والے اہم مرکزی بینک اجلاسوں پر بھی مرکوز ہیں، جن میں یورپیئن سینٹرل بینک، فیڈرل ریزرو اور بینک آف انگلینڈ شامل ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں شرح سود سے متعلق فیصلے متوقع ہیں۔