میٹا، گوگل اور ٹک ٹاک خبروں کی ادائیگی کریں یا ٹیکس دیں: میڈیا کے لئے آسٹریلیا کا اقدام

آسٹریلیا نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مجوزہ قانون متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اگر بڑی ڈیجیٹل کمپنیاں مقامی نیوز اداروں کو ادائیگی نہیں کرتیں تو ان پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

وزیراعظم اینتھونی البانیز کے مطابق میٹا، گوگل اور ٹک ٹاک کو موقع دیا جائے گا کہ وہ آسٹریلوی میڈیا اداروں کے ساتھ معاہدے کریں تاکہ خبروں کے استعمال کے بدلے ادائیگی کی جا سکے۔ اگر یہ کمپنیاں ایسا کرنے سے انکار کرتی ہیں تو ان پر آسٹریلیا میں حاصل ہونے والی آمدنی کا تقریباً 2.25 فیصد بطور ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں خبروں سے فائدہ اٹھا کر منافع تو کمائیں لیکن میڈیا اداروں کو نظر انداز نہ کریں۔ اس سے قبل بھی میٹا اور گوگل خبروں کو اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا چکی ہیں تاکہ ایسے قوانین سے بچا جا سکے۔

وزیراعظم البانیزی کا کہنا تھا کہ صحافت کی ایک مالی قدر ہونی چاہیے، اور اسے بغیر معاوضہ بڑے کارپوریشنز کے منافع کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین کے ردعمل میں ٹیک کمپنیاں اپنی سروسز محدود کر سکتی ہیں۔ ماضی میں گوگل نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسے خبروں کے بدلے ادائیگی پر مجبور کیا گیا تو وہ آسٹریلیا میں اپنی سرچ سروس محدود کر سکتا ہے، جبکہ میٹا نے نیوز فیچرز بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

یونیورسٹی آف کینبرا کے مطابق آسٹریلیا میں نصف سے زیادہ افراد سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں حاصل کرتے ہیں، جس سے روایتی میڈیا اداروں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ قانون عوامی مشاورت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اسے اسی سال پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں ٹیک کمپنیوں اور میڈیا کے درمیان تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔