متحدہ عرب امارات نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادی گروپ اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ سے نافذ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ملک کے “قومی مفادات” اور طویل المدتی معاشی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
یو اے ای 1967 سے اوپیک کا رکن تھا، یعنی ملک نے تقریباً چھ دہائیوں تک اس تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل 2024 میں انگولا بھی اوپیک سے الگ ہو چکا ہے، تاہم یو اے ای کا نکلنا زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔ خاص طور پر آبنائےہرمز میں ایران کی رکاوٹ کے باعث عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً ایک پانچویں حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کے اس اقدام سے اوپیک کی مجموعی طاقت کمزور ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ تنظیم پر سعودی عرب کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ یو اے ای کو پہلے بھی اوپیک کی پیداوار کی حد پر اعتراض رہا ہے۔
توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے بعد یو اے ای اب اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار بڑھا سکے گا، جس سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔


